ایشیا کا قدیم محمدن سپورٹنگ کلب مشکلات میں

تصویر کے کاپی رائٹ Ronny Roy
Image caption محمدن سپورٹنگ پہلی ہندوستانی فٹبال ٹیم تھی جس نے سنہ 1934 میں کلکتہ ليگ جیتی تھی

ایک زمانے میں ہندوستانی فٹبال کا کریز کہی جانے والی اور ہند کی قدیم ترین فٹبال ٹیم میں سے ایک محمدن سپورٹنگ کلب مالی مسائل کے سبب بند کیا جا رہا ہے۔

26 اگست سنہ 1936کو سکاٹش روزنامے نے ’انڈین جگلر - نیو سٹائل‘ یعنی ہندوستانی بازی گر -- طرز نو کی مختصر شہ سرخی کے ساتھ ایک خبر شائع کی تھی۔

یہ خبر ایک ہندوستانی فٹبالر کے بارے میں تھی جو سیلٹک ایف سی کی جانب سے کھیلنے میدان مین اترا تھا اور اس نے اپنے ہنر سے لوگوں کو ’مسحور‘ کر دیا تھا۔

اس فٹبالر کا نام سلیم تھا اور وہ کلکتہ کی محمدن سپورٹنگ کلب سے تعلق رکھتا تھا۔ واضح رہے کہ اس سال محمدن سپورٹنگ لگاتار تیسری بار کلکتہ فرسٹ ڈویژن فٹبال ليگ کا فاتح رہا تھا۔

محمدن سپورٹنگ پہلی ہندوستانی فٹبال ٹیم تھی جس نے سنہ 1934 میں کلکتہ ليگ جیتی تھی۔ یہ لیگ سنہ 1898 میں شروع ہوئی تھی اور ایشیا کی قدیم ترین ليگ تھی۔

اس واقعے کے 80 سال بعد 20 اکتوبر سنہ 2014 میں کلب نے مالی دشواریوں کے پیش نظر اپنی سینیئر ٹیم کو بند کرنے کا ’مشکل فیصلہ‘ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ronny Roy
Image caption اس ٹیم کی کامیابی صرف کھیل تک محدود نہیں رہی بلکہ بنگالی کے سرکردہ شاعر نذرالاسلام بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے

محمدن سپورٹنگ کا قیام سنہ 1891 میں عمل میں آیا اور اسے پہلی بار کلکتہ لیگ میں کھیلنے کا موقع سنہ 1934 میں ملا تھا اور اس نے پہلے ہی سال اسے فتح کر کے ہندوستانی فٹبال کے لیے نئی تاریخ رقم کی۔

سنہ 1936 میں اس ٹیم نے کلکتہ ليگ کے ساتھ ساتھ آئی ایف اے شیلڈ جیت کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس سے قبل صرف تین برطانوی ٹیموں رائل آئرش رائفلز، گورڈن ہائی لینڈرز اور کلکتہ فٹبال کلب کو یہ اعزاز حاصل تھا۔

سپورٹس صحافی رونوجون سین بتاتے ہیں کہ محمدن سپورٹنگ کی جیت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

ہندوستان کے ایک اخبار امرت بازار پتریکا نے لکھا کہ ’ہر میچ کے ساتھ ٹیم کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا‘ اور رش کی وجہ سے میچ شروع ہونے سے بہت پہلے ہی سٹیڈیم کے دروازے بند کر دیے جاتے تھے۔

محمدن سپورٹنگ کا میچ دیھکنے والوں میں جوان اور بوڑھے تو شامل تھے ہی یہاں تک کہ علما بھی اس کے شائقین میں شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption محمدن سپورٹنگ کی کامیابی کو مسلمانوں کی کامیابی کا مترادف قرار دیا جانے لگا

سنہ 1935 میں موہن بگان کے خلاف ایک میچ کو دیکھنے کے لیے کلکتہ فٹبال کلب گراؤنڈ میں 60 ہزار لوگ پہنچے تھے جس میں محمدن سپورٹنگ کو کامیابی ملی تھی۔

اس جیت کے بعد اخبار نے یہ رپورٹ شائع کی تھی کہ ’آتش بازیاں ہوئي، غبارے ہوا میں چھوڑے گئے، کبوتر اڑائے گئے اور کلکتہ کے مسلمان دیر رات تک اس جیت پر جشن مناتے رہے۔‘

رونوجوئے سین کا کہنا ہے کہ محمدن سپورٹنگ کی کامیابی کی بہت ساری وجوہات تھیں اور موہن بگان یا ایسٹ بنگال کے برخلاف اس نے بنگال سے باہر کے کھلاڑیوں کو بھی ٹیم میں شامل کیا۔

اس طرح اسے اپنی ہندوستانی حریف ٹیموں پر واضح سبقت حاصل تھی کہ یہ پورے برصغیر سے مسلمان کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم میں شامل کرتی تھی۔ یہاں تک کہ اس نے کوئٹہ اور پشاور تک سے کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا۔ تقسیم کے بعد 60 کی دہائی میں اس میں مسلمان کے علاوہ کھلاڑی بھی رکھے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ronny Roy
Image caption محمدن سپورٹنگ کا قیام سنہ 1891 میں عمل میں آیا تھا

اس کلب نے پہلی بار یہ بھی طے کیا تھا کہ اس کی ٹیم کے کھلاڑی برسات کے موسم میں بوٹ کا استعمال کریں گے جبکہ دوسری ٹیم کے کھلاڑی ننگے پاؤں کھیلا کرتے تھے۔

سنہ 1933 میں محمدن سپورٹنگ کے چھ کھلاڑی بوٹ پہن کر میدان میں اترے اور انھوں نے حریف ٹیم کو صفر کے مقابلے 16 گول سے شکست دی۔

اس ٹیم کی کامیابی صرف کھیل تک محدود نہیں رہی بلکہ بنگالی کے سرکردہ شاعر نذرالاسلام بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے اور اس کی شان میں ایک نظم لکھ ڈالی۔

محمدن سپورٹنگ کی کامیابی کو مسلمانوں کی کامیابی کا مترادف قرار دیا جانے لگا۔ جب محمدن سپورٹنگ نے سنہ 1940 میں بمبئی (ممبئی) میں ہونے والے روورز کپ میں جیت حاصل کی تو بانی پاکستان محمد علی جناح نے مسلم طلبہ سے کہا تھا کہ ’کھیل ہمیں جو نظم و ضبط سکھاتا ہے اسے مسلمانوں کے مجمو‏عی فائدے کے لیے اپنایا جانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں