سپنرز کے سامنے آسٹریلوی دنیا اندھیر، پاکستان جیت گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ذوالفقار بابر نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں

آسٹریلوی کرکٹرز کا دنیا پر راج کرنے کا احساس تفاخر اس وقت اپنی حقیقت کھونے لگتا ہے جب وہ سپنرز کے سامنے بے بسی کی تصویر بن جاتے ہیں۔

دبئی ٹیسٹ میں سعید اجمل موجود نہیں تھے لیکن ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ کی شاندار سپن بولنگ کے سامنے آسٹریلوی کرکٹرز کو اپنی دنیا گھومتی ہوئی نظر آئی۔

لائیو سکور کارڈ

پاکستان کی فتح، تصاویر

ان دونوں کی شاندار بولنگ نے پاکستان کو 221 رنز کی بیش قیمت جیت سے ہمکنار کردیا۔

آسٹریلوی ٹیم نے آخری دن زبردست مزاحمت کی جو تیسرے سیشن میں 216 رنز پر دم توڑگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے لیگ سپنر یاسر شاہ نے میچ میں سات وکٹیں حاصل کیں

ذوالفقار بابر نے اپنے تیسرے ٹیسٹ میں کریئر بیسٹ بولنگ کرتے ہوئے 74رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں۔

میچ میں انھوں نے 155 رنز کے عوض سات وکٹیں حاصل کیں۔

اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے یاسر شاہ نے دوسری اننگز میں پچاس رنز دے کر چار کھلاڑی آؤٹ کیے۔ میچ میں انھوں نے ایک سو سولہ رنز کے عوض سات وکٹیں حاصل کیں۔

آسٹریلیا کی 15 وکٹیں اس میچ میں سپنرز کی جھولی میں گریں۔

میچ کے چوتھے دن کرس راجرز اور سٹیو سمتھ بیٹنگ کے لیے آئے تو ان کے سامنے 379 رنز کا پہاڑ جیسا سکور تھا جسے پاکستانی سپنرز کے سامنے سر کرنا بہت مشکل دکھائی دے رہا تھا۔

پاکستان کو پہلی کامیابی کے لیے اٹھارہویں اوور تک انتظار کرنا پڑا جب عمران خان نے کرس راجرز کے دفاع میں شگاف ڈالا۔

وہ 43 رنز بناکر پویلین لوٹے تو آسٹریلیا کا سکور 92 رنز تھا لیکن پھر ذوالفقار بابر کے قصیدے پڑھے جانے لگے جنہوں نے پہلے مچل مارش اور پھر بریڈ ہیڈن کی وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلیا کے لیے زمین اور تنگ کردی۔

مچل مارش اپنے پہلے ٹیسٹ میں دوسری مرتبہ ذوالفقار بابر کا شکار ہوئے۔

انہیں صرف تین رنز پر قریب کھڑے اظہرعلی نے کیچ کیا۔

بریڈ ہیڈن نے جو عام طور پر بولرز کے صبر کا امتحان لینے میں شہرت رکھتے ہیں اس مرتبہ ترنوالہ ثابت ہوئے اور دس گیند کھیل کر صفر پر ذوالفقار بابر کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

آسٹریلیا کی ساتویں وکٹ ایک سو پانچ رنز پرگری۔

سمتھ اور مچل کے درمیان بننے والے پنسٹھ رنز آسٹریلوی اننگز کی سب سے بڑی شراکت کے طور پر درج ہوئے لیکن اس کا بڑا سبب پاکستانی ٹیم کی خراب فیلڈنگ تھی۔

سرفراز احمد نے سمتھ کو سٹمپ کرنے کا موقع ضائع کیا۔ مصباح الحق بھی ان کا کیچ لینے میں ناکام رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فاسٹ بولر عمران خان نے پانچویں روز کرس راجر کو آؤٹ کرکے پاکستان کو عمدہ آغاز فراہم کیا

مچل جانسن کے دو کیچز احمد شہزاد اور یاسر شاہ نے چھوڑ دیے ۔

چاروں مرتبہ بدقسمت بولر ذوالفقار بابر تھے ۔

پاکستانی ٹیم نے اس وقت سکون کا سانس لیا جب یاسر شاہ نے پچپن رنز بنانے والے سٹیو سمتھ کو اسد شفیق کے ہاتھوں کیچ کرا دیا لیکن مچل جانسن آسانی سے پاکستانی بولرز کے ہاتھ آنے کے لیے تیار نہ تھے۔

آخری سیشن کے 29 اوورز میں پاکستانی ٹیم دو وکٹوں کے انتظار میں تھی۔

جانسن کی مزاحمت 61 کے انفرادی سکور پر ختم ہوئی وہ یاسرشاہ کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں سٹمپ ہوئے۔

یہ اس اننگزمیں یاسر شاہ کی چوتھی وکٹ تھی۔

ذوالفقار بابر نے پیٹرسڈل کو اظہرعلی کے ہاتھوں کیچ کرا کر پاکستان کی جیت پر مہر تصدیق ثبت کردی۔

اسی بارے میں