جیت برقرار رکھنے کا چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان نے آخری بار آسٹریلیا کےخلاف ٹیسٹ سیریز 1994 میں سلیم ملک کی کپتانی میں جیتی تھی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ایک شاندار جیت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی برتری برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔

پاکستان نے آسٹریلیا کو دبئی ٹیسٹ میں 221 رنز سے آؤٹ کلاس کیا اور اب وہ 20 سال کے طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد پہلی مرتبہ اس کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے کے ارادے سے ابوظہبی کا دوسرا ٹیسٹ کھیلنےکے لیے میدان میں اترے گی۔

پاکستان نے آخری بار آسٹریلیا کےخلاف ٹیسٹ سیریز سنہ 1994 میں سلیم ملک کی کپتانی میں جیتی تھی۔

کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انھیں دبئی ٹیسٹ کی جیت کی اہمیت کا اندازہ ہے لہٰذا وہ کسی قیمت پر سیریز جیتنے کے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔

مصباح الحق اگر یہ ٹیسٹ میچ بھی جیتنے میں کامیاب ہوگئے تو وہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے سب سے کامیاب کپتان بن جائیں گے۔

اسوقت وہ تیرہ ٹیسٹ میچز کی کامیابیوں کے ساتھ عمران خان اور جاوید میانداد کے بعد دوسرے نمبرپر ہیں۔

عمران خان اور جاوید میانداد نے چودہ چودہ ٹیسٹ میچز جیتے ہیں۔

آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک دبئی ٹیسٹ میں مایوس کارکردگی کے باوجود یہ کہہ چکے ہیں کہ ابوظہبی ٹیسٹ میں ان کی ٹیم نئے جذبے کے ساتھ میدان میں اترے گی۔

پاکستانی ٹیم کی چند بڑی خِامیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ حاصل ہونے والی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو پاتی۔

گذشتہ سال پاکستان نے اس وقت کی عالمی نمبر ایک ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف ابوظہبی میں کھیلا گیا ٹیسٹ میچ سات وکٹوں سے جیتا تھا لیکن سیریز کےاگلے ہی ٹیسٹ میں شکست کے نتیجے میں وہ سیریز نہ جیت سکی۔

ابوظہبی میں کھیلے گئے پانچ ٹیسٹ میچوں میں سے صرف دو فیصلہ کن ثابت ہوئے ہیں جن میں پاکستان نے انگلینڈ کو 72 رنز اور جنوبی افریقہ کو سات وکٹوں سے ہرایا تھا۔

ابوظہبی کی وکٹ پر تیز بولر اور سپنر دونوں کامیاب رہے ہیں۔ سعید اجمل اور جنید خان دونوں 18، 18 وکٹیں حاصل کر کے سب سے آگے ہیں۔

اس میدان میں سب سے زیادہ 540 رنز پاکستانی کپتان مصباح الحق نے سکور کیے ہیں۔ 90 کی اوسط سے بنائے گئے ان کے رنز میں دو سنچریاں اور تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔

اسی بارے میں