’اننگز کو تین ہندسوں میں بدلنے کی عادت ڈالنی ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اظہر علی نے ابوظہبی ٹیسٹ میچ میں سنچری سکور کی ہے اور ابھی کریز پر موجود ہیں

پاکستان کرکٹ ٹیم کے اظہر علی کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہے کہ اگر انھیں اپنا تعارف ایک بڑے بیٹسمین کے طور پرکرانا ہے تو اپنی اننگز کو تین ہندسوں میں بدلنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔

اکثر ایسا ہوا ہے کہ اظہرعلی نے نصف سنچری سکور کی لیکن اسے سنچری میں تبدیل کرنے سے پہلے ہی وکٹ گنوا دی۔

آسٹریلوی حوصلے یونس اور اظہر کے ہاتھوں پست

اظہرعلی نے 36 ٹیسٹ کی 66 اننگز میں چھ سنچریاں اور 16 نصف سنچریاں بنائی ہیں ان میں سے دو مرتبہ وہ نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے ہیں جبکہ تین مرتبہ وہ 70 یا زائد کرنے کے باوجود سنچری سکور نہ کر سکے۔

اظہرعلی کا کہنا ہے کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ سیٹ ہونے کے بعد ایک بڑی اننگز کھیلیں۔سری لنکا کے خلاف سیریز اور دبئی ٹیسٹ میں بھی وہ اچھا کھیل رہے تھے لیکن بڑی اننگز نہیں کھیل پائے۔ اس سنچری سے انھیں کافی اعتماد ملا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے سامنے یونس خان کی مثال موجود ہے جو نصف سنچری کو سنچری میں بدلتے ہیں اور وہ سنچری بھی ایک بڑی اننگز ہوتی ہے۔

اظہرعلی کو اس بات کی خوشی ہے کہ یونس خان جیسے سینیئر بیٹسمین کے ساتھ انھیں کھیلنے کا موقع مل رہا ہے جو قدم قدم پر ان کی رہنمائی کرتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے بہت آسانی محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ پہلے دن کے اختتام پر یہ دونوں تیسری وکٹ کی شراکت میں 208 رنز بنا چکے تھے۔

دبئی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں دونوں نے سنچری پارٹنرشپ بنائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اظہرعلی نے 36 ٹیسٹ کی 66 اننگز میں چھ سنچریاں اور 16 نصف سنچریاں بنائی ہیں

اظہر علی کا کہنا ہے کہ یہ اننگز آسان نہ تھی کیونکہ انھیں کمر کی تکلیف سے بھی دوچار ہونا پڑا تھا لیکن فزیو نے بروقت انہیں ٹریٹمنٹ دے کر کھیل کے قابل بنایا۔

اظہر علی نے اپنا ٹیسٹ کریئر بھی آسٹریلیا ہی کے خلاف 2008 میں لارڈز میں شروع کیا تھا اور وہ کہتے ہیں کہ انھیں خوشی تھی کہ دنیا کی ایک بڑی ٹیم کے خلاف وہ اپنا پہلے ٹیسٹ کھیلے تھے کیونکہ جب آپ ورلڈ کلاس بولنگ کے سامنے کھیلتے ہیں تو آپ کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔

اظہر علی سے جب مائیکل کلارک کی غیر روایتی فیلڈ پلیسنگ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ کلارک دنیا کے چند بہترین کپتانوں میں سے ایک ہیں جو فیلڈنگ کے ساتھ کھیلتے ہیں لیکن پاکستانی ٹیم کے کوچنگ سٹاف نے انھیں سمجھا دیا تھا کہ اپنی توجہ فیلڈ پلیسنگ کے بجائے بولرکی گیند کی طرف رکھیں جو آپ کی طرف آ رہی ہے۔

اظہر علی نے کہا کہ انھوں نے بولر کے پیچھے ایک فیلڈر کھڑا کرنے کے بارے میں امپائر سے کوئی شکایت نہیں کی تھی بلکہ جب ان کی توجہ ہٹی تو پھر امپائر سے پوچھا تھا جس پر انھیں بتایا گیا کہ وہ فیلڈر اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرے گا لہٰذا یہ ان کے لیے کوئی پریشان کن بات نہیں تھی۔

اسی بارے میں