کلارک کے لیے کامیابیوں کے بغیر سخت دن

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ان کی کوشش ہوگی کہ اچھی بیٹنگ کی جائے: کلارک

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان مائیکل کلارک دبئی ٹیسٹ کے بعد اب ابوظہبی میں بھی خود کو دباؤ میں محسوس کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کا پہلا دن ان کے لیے اچھا نہیں رہا۔

کلارک کا کہنا ہے کہ انھوں نے یونس خان اور اظہر علی کی شراکت ختم کرنے کے تمام جتن کر ڈالے لیکن انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔

کلارک نے کہا کہ پہلے ٹیسٹ کی طرح اس بار بھی ان کی ٹیم نے فیلڈنگ میں چند مواقع ضائع کیے جو مایوس کن بات ہے۔

ٹیم میں کی گئی دو تبدیلیوں کے بارے میں کلارک کا کہنا ہے کہ سلیکٹرز نے کنڈیشنز کو دیکھ کر میکسویل اور سٹارک کو موقع دیا ہے اور کپتان کی حیثیت سے انھوں نے سلیکٹرز کے فیصلے کی حمایت کی۔

ٹاس ہارنے کے بارے میں سوال پر کلارک نے کہا کہ وہ کیا کر سکتے ہیں؟ یہ ان کے بس میں نہیں ہے ۔

انھوں نے ازراہ تفنن کہا کہ اگر سکے کے دونوں طرف’ ٹیل‘ ہوتا تو وہ ضرور ٹاس جیت جاتے۔

کلارک کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹاس کو میچ کے نتیجے پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔بھارت کے خلاف سیریز کی مثال موجود ہے جس کے ہر ٹیسٹ میں آسٹریلوی ٹیم ٹاس جیتی اور ہر میچ ہاری۔

انھوں نے کہا کہ ایک بڑے سکور کے جواب میں بیٹنگ کرتے ہوئے دباؤ ضرور ہوتا ہے لیکن ان کی کوشش ہوگی کہ اچھی بیٹنگ کی جائے۔ ابھی اس میچ میں بہت کچھ باقی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ٹیم کی اچھی بری کارکردگی کی ذمہ داری کپتان کی حیثیت سے وہ قبول کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں نہ کہ کسی دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

اسی بارے میں