پاکستان کی مجموعی برتری 370 رنز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈیوڈ وارنر کا وکٹ لینے کے بعد پاکستانی ٹیم خوشیاں مناتی ہوئی نظر آ رہی ہے

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ابوظہبی ٹیسٹ کے تیسرے دن کھیل ختم ہونے پر پاکستان کی دوسری اننگز میں اس کے دو کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے اور اس کو 370 رنز کی مجموعی برتری حاصل ہو گئی تھی۔

پاکستان نے دوسری اننگز میں 61 رنز بنائے تھے اور اس کی آٹھ ووکٹیں باقی تھیں۔

آسٹریلیا کی ٹیم پہلی اننگز میں 261 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔

میچ کا تفصیلی سکور بورڈ

آسٹریلیا کی پوری ٹیم کو 261 رنز پر آؤٹ کر کے پاکستان نے پہلی اننگز میں 309 رنز کی برتری حاصل کی تھی۔

پاکستان کی ٹیم نے آسٹریلیا کو فلو آن کرنے کے بجائے دوبارہ بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کی طرف سے احمد شہزاد اور محمد حفیظ نے بیٹنگ کا آغاز کیا لیکن پہلی وکٹ دوسرے ہی اوور میں صرف سولہ کے مجموعی سکور پر گر گئی۔

احمد شہزاد کو مچل جانسن نے بولڈ کر دیا۔ احمد شہزاد نے اسی اوور میں جانسن کو دو چوکے اور ایک چھکا لگایا اور اوور کی آخری گیند پر یارک ہو گئے۔

پاکستان کی دوسری وکٹ 21 کے سکور پر گری جب جانسن نے ایک شارٹ گیند پر حفیظ کو کیچ آؤٹ کر دیا۔

آسٹریلیا کی اننگز میں نوجوان کھلاڑی مچل مارش نمایاں رہے انھوں نے 87 رنز سکور کیے۔ ان کے علاوہ کپتان کلارک نے 47 رنز بنائے۔

پاکستان کے تیز رفتار بولر عمران خان نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ کپتان کلارک کی وکٹ بھی عمران خان نے ایک اندر کی طرف سوئنگ ہوتی ہوئی گیند پر حاصل کی۔ عمران کی یہ گیند کلارک کے بلے اور پیڈوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی مڈل سٹمپ پر لگی اور وہ بولڈ ہو کر پویلین لوٹ گئے جس کے بعد آسٹریلیا کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں۔

199 رنز پر مچل جانسنز یاشر شاہ کی گیند پر محمد حفیظ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ یہ آسٹریلیا کی آٹھویں وکٹ تھی۔ اس سے پہلے آؤٹ ہونے والے آسٹریلیا کے ساتویں کھلاڑی بریڈ ہیڈن تھے انھیں بھی یاشر شاہ نے آؤٹ کیا۔ انھوں نے صرف 10 رنز بنائے۔

آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن آغاز سے ہی مشکل کا شکار رہی اور اس کی نصف ٹیم صرف 100 رنز پر پولین واپس ہو چکی تھی۔

کھانے کے وقفے کے بعد کپتان مائیکل کلارک کی شکل میں آسٹریلیا کی چھٹی وکٹ گری۔

وارنر کو راحت علی کی گیند پر یاسر شاہ نے کیچ کیا۔ انھوں نے 19 رنز بنائے جبکہ میکسویل نے 28 گیندوں پر 37 رنز بنائے اور انھیں ذولفقار بابر نے آؤٹ کیا۔

چوتھی وکٹ 97 کے سکور پر گری جب لیون کو راحت علی نے بولڈ کر دیا۔ سٹیون سمتھ کو صفر پر ذوالفقار بابر نے ایل بی ڈبلیو کردیا۔

دوسرے دن یونس خان کی ڈبل سنچری اور مصباح الحق کی سنچری کی بدولت پاکستان نے چھ وکٹوں کے نقصان پر 570 رنز پر اننگز ڈیکلیئر کر دی تھی اور اوپنر کرس راجرز کی وکٹ لینے میں بھی کامیابی حاصل کر لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈیوڈ وارنر کے کرس راجرز بیٹنگ کرنے آئے لیکن کرس راجر پانچ رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے

دوسرے دن کھیل کے اختتام پر ڈیوڈ وارنر کے ساتھ نیتھن لیون کھیل رہے تھے اور ٹیم کا سکور ایک وکٹ کے نقصان 22 رنز تھا۔

اس سے پہلے میچ کے دوسرے دن چائے کے وقفے تک پاکستان کی ٹیم نے 517 رنز بنائے تھے اور اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔

چائے کے وقفے کے بعد یونس خان 213 کے انفرادی سکور پر پیٹر سڈل کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ اس کے بعد اسد شفیق کی وکٹ بھی گر گئی اور وہ 21 رنز بنا کر سٹارک کی گیند پر بولڈ ہوئے۔

چائے کے وقفے سے تھوڑی دیر قبل کپتان مصباح الحق اپنی سنچری سکور کرنے کے فوراً بعد سٹیون سمتھ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ سمتھ نے اپنی ہی گیند پر مصباح کا کیچ لے کر انھیں آؤٹ کر دیا۔

مصباح الحق اور یونس خان کے درمیان 181 رنز کی شراکت ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty images
Image caption مصباح الحق کا فارم میں واپس آنا پاکستان کے لیے خوش آئند ہے۔

ابو ظہبی کے شیخ زید سٹیڈیم میں مصباح الحق سنچری سکور کرنے والے تیسرے پاکستانی بلے باز بن گئے ہیں۔

یونس جب وہ 181 کے سکور پر پہنچے تو ٹیسٹ کرکٹ میں آٹھ ہزار رن مکمل کرنے والے وہ تیسرے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔ ان کا سب سے زیادہ سکور 313 رنز ہے جو انھوں نے سنہ 2009۔ میں سری لنکا کے خلاف کراچی میں سکور کیا تھا۔

اپنی ڈبل سنچری میں انھوں نے چودہ چوکے اور دو چھکے لگائے اور اس دوران انھوں نے 334۔گیندوں کو سامنا کیا۔

مصباح الحق جو اظہر علی کے آؤٹ ہونے کے بعد میدان میں آئے تھے انھوں نے 165 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی جو ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں چھٹی سنچری تھی۔ انھوں نے اپنی اننگز میں دس چوکے اور دو چھکے لگائے۔

میچ کے دوسرے دن آسٹریلیا کو کھانے اور چائے کے وقفے کے درمیان صرف ایک کامیابی حاصل ہوئی۔ اس سے قبل اظہر علی کھیل کے پہلے ہی سیشن میں آؤٹ ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کلارک اس میچ میں اپنے سمیت آٹھ بولروں کو آزما چکے ہیں

اس سے قبل میچ کے پہلے دن یونس خان اور اظہر علی نے ایک سست اور کم باؤنس والی وکٹ پر آسٹریلوی بالروں کے حوصلے خوب پست کیے۔ یونس خان سیریز میں مسلسل تیسری سنچری بنا کر آسٹریلوی بولنگ پر پھر برسے جبکہ اظہرعلی نے اپنے کرئیر کی چھٹی سنچری سکور کی۔

پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان نے دو وکٹوں پر 304 رنز بنائے تھے۔

یونس 111 اور اظہرعلی 101 پر ناٹ آؤٹ تھے اور دونوں تیسری وکٹ کی شراکت میں 208 رنز کا اضافہ کر چکے ہیں۔

یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل تین اننگز میں سنچریاں بنانے والے چوتھے پاکستانی بیٹسمین بھی بن گئے۔ ان سے قبل ظہیرعباس، مدثرنذر اور محمد یوسف نے ٹیسٹ کرکٹ میں لگاتار تین اننگز میں سنچریاں بنا رکھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونس خان مسلسل تین اننگز میں سنچریاں بنانے والے چوتھے پاکستانی بیٹسمین بن گئے ہیں

یونس خان 90 سال کے عرصے کے بعد آسٹریلیا کے خلاف مسلسل تین سنچریاں سکور کرنے والے پہلے بیٹسمین بن گئے ہیں۔ ان سے قبل انگلینڈ کے ہربرٹ سٹکلف نے 25-1924 میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

یونس خان نے اپنی سنچری صرف 128گیندوں پر دس چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے مکمل کی جو ان کے ٹیسٹ کرئیر کی27ویں سنچری تھی۔

اظہرعلی نے اسی سال شارجہ میں سری لنکا کے خلاف میچ وننگ سنچری کے بعد تین ہندسوں کی اننگز نہ کھیلنے کا جمود بالآخر توڑ ڈالا۔ انھوں نے اپنی چھٹی سنچری 223 گیندوں پر مکمل کی جس میں چھ چوکے شامل تھے۔

اسی بارے میں