’میرا نام بھی رچرڈز کےساتھ آئےگا، میں بہت خوش ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ getty images
Image caption مصباح نے اپنی خراب فارم کی وجہ سے تیسرے ایک روزہ میچ میں شرکت نہیں کی تھی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ سر ویوین رچرڈز کے عالمی ریکارڈ کی برابری پر وہ خود کو انتہائی خوش قسمت کرکٹر محسوس کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ابوظہبی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں مصباح الحق نے صرف 56گیندوں پر سنچری سکورکرکے سر ویوین رچرڈز کا تیز ترین سنچری کا ریکارڈ برابر کردیا ہے ۔

چوتھے دن کھیل ختم ہونے پر مصباح الحق نے کہاکہ یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے کہ ان کا نام ویوین رچرڈز کے ساتھ لیا جائےگا حالانکہ وہ خود کو ان کے قریب نہیں سمجھتے۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انھوں نے جب اکیس گیندوں پر تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ قائم کیا تو وہ سٹیڈیم کی سکرین پر آگیا تھا لیکن انہیں تیز ترین سنچری کا اندازہ نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ وہ جب اسی رنز پر تھے تو انھیں ڈریسنگ روم سے پیغام بھیجا گیا کہ سر ویوین رچرڈز کا ریکارڈ توڑنے کے لیے آپ کے پاس دس گیندیں ہیں ۔

مصباح الحق کہتے ہیں کہ اس طرح کے ریکارڈز آپ کو بہت بڑی خوشی فراہم کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ جب بیٹنگ کے لیے آئے تھے تو ان کے ذہن میں صرف یہی بات تھی کہ کم سے کم وقت میں ٹیم زیادہ سے زیادہ سکور کرے ۔ وہ اظہرعلی کو میچ کی دوسری اننگز میں بھی سنچری کرنے میں مدد دینا چاہتے تھے اور خود بھی تیز کھیلنا چاہتے تھے کہ آسٹریلیا کو ایسی پوزیشن میں لے آئیں کہ وہ مکمل طور پر دباؤ میں آ جائے ۔ اسی کوشش میں انھوں نے بھی سنچری بنا ڈالی۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں دوسرا موقع ہے کہ دو بیٹسمینوں نے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں سکور کی ہیں۔

مصباح الحق اس عالمی ریکارڈ اور اس اننگز کو اپنے لیے بہت اہم سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سیریز سے قبل جو صورتحال رہی اور ورلڈ کپ بھی آ رہا ہے اس تناظر میں ان کا فارم میں آنا اور بڑا سکور کرنا بہت معنی رکھتا ہے۔

مصباح الحق نے جو اپنے کریئر میں ہمیشہ دباؤ میں آکر بیٹنگ کرتے رہے ہیں اس اننگز کو اپنی سب سے کم دباؤ والی اننگز قرار دیا۔

اسی بارے میں