’انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے تعصب برتا، آئی سی سی نوٹس لے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کنیریا کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں

پاکستانی لیگ سپنر دانش کنیریا نے آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن کے نام ایک ای میل میں اپنے اوپر عائد تاحیات پابندی پر نظرِ ثانی کی اپیل کی ہے۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے سپاٹ فکسنگ کی پاداش میں دانش کنیریا پر تاحیات پابندی عائد کر رکھی ہے جس کی توثیق آئی سی سی نے بھی کی ہے۔

کنیریا اس پابندی کے خلاف تمام اپیلیں ہار چکے ہیں۔

دانش کنیریا کا کہنا ہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے مبینہ طور پر ان کے معاملے میں جانبدارانہ اور تکبرانہ انداز اختیار کر کے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کی اور انہیں قربانی کا بکرا بنادیا۔

دانش کنیریا نے اپنی ای میل میں یہ بھی کہا ہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے وکلا نے اپنے مرکزی گواہ مرون ویسٹ فیلڈ کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

ان کا کہنا ہے کہ ویسٹ فیلڈ نے اس تمام معاملے میں کبھی بھی سچ نہیں بولا ۔ یہاں تک کہ وہ آخری سماعت میں بیماری کا بہانہ کرکے پیش بھی نہیں ہوئے ۔

دانش کنیریا کا کہنا ہے کہ مرون ویسٹ فیلڈ پابندی عائد کیے جانے کے باوجود انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے زیراہتمام ہونے والی کلب کرکٹ کھیلتے رہے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

کنیریا نے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے غیر برطانوی کرکٹرز کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو مبینہ طور پر نسلی تعصب پر مبنی قرار دیا ہے۔

دانش کنیریا نے اپنی ای میل میں پاکستان کرکٹ بورڈ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے انہیں اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے سے روک دیا جب ایسیکس پولیس نے ان پر فرد جرم بھی عائد نہیں کی تھی۔

کنیریا نے کہا ہے کہ وہ انو بھٹ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے افسر کے توسط سے دو ہزار پانچ میں ویسٹ انڈیز کےدورے میں ملے تھے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے کہ اس نے ایک ایسے شخص کو ٹیم کے قریب کیوں آنے دیا جس کی ساکھ کے بارے میں سوالات اٹھے اور وہ مبینہ طور پر بک میکرز سے تعلقات رکھتا تھا۔

دانش کنیریا نے آئی سی سی سے کہا ہے کہ ان کے پاس تمام شواہد موجود ہیں جو وہ آئی سی سی کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ۔

اسی بارے میں