جیت مٹھی میں، مصباح ریکارڈ کے قریب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان بولروں نے پاکستان کو ایک اور فتح کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے

مصباح الحق بارہ نومبر 2010 ء کو پاکستانی کرکٹ کے مشکل ترین دور میں ٹیسٹ کپتان بنے تھے اور آج ٹھیک چار سال بعد وہ پاکستان کے کامیاب ترین کپتان بننے کے بہت قریب آچکے ہیں۔

ابوظہبی ٹیسٹ کے چوتھے دن پاکستانی بولرز کی شاندار کارکردگی نے جیت کو اپنی مٹھی میں کرلیا ہے جو مصباح الحق کو پندرہ فتوحات کے ساتھ عمران خان اور جاوید میانداد سے اوپر لاتے ہوئے ریکارڈ بک میں درج کرانے والی ہے ۔

مصباح الحق نے ابوظہبی کے اسی میدان میں آسٹریلیا کو فالوآن نہ کراکر دوسری بیٹنگ کے ملبے تلے دبایا تھا اسوقت بھی فالوآن نہ کرانے کے ان کے فیصلے پر حیرانی ظاہر کی گئی تھی تاہم ان کے بولرز نے انہیں مایوس نہیں کیا تھا اور اب یہی بولرز ایک بار پھر ان کے اعتماد پر پورے اترے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصباح الحق نے جب کپتانی سنبھالی اس وقت ٹیم کے کپتان سپاٹ فکسنگ کے جرم میں جیل جا چکے تھے

چوتھے دن کھیل ختم ہونے پر نیوزی لینڈ کے ہاتھ صرف دو وکٹیں بچی ہیں جو ٹیل اینڈرز کی ہیں اگرچہ سودھی اور مارک کریگ نے نواسی گیندیں کھیل کر مصباح الحق کی بے صبری میں اضافہ کردیا ہے اور پاکستانی ٹیم اپنے دونوں ریویو بھی ضائع کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود آخری دن کو محض رسمی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نیوزی لینڈ کی کمر درحقیقت صرف اکیس گیندوں پر ابتدائی تین وکٹیں گرنے کی صورت میں ٹوٹ گئی تھی ۔

پہلی اننگز کے سنچری میکر ٹام لیتھم۔ کپتان برینڈن مک کیولم اور راس ٹیلر کے آؤٹ ہونے کے بعد اس ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کسی کے بس میں نہ رہی ۔

پہلےسپنرز نے اپنا جادو جگایا اور پھر تیز بولرز بھی بھڑک اٹھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیگ سپنر یاسر شاہ نے نہایت عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیوی بلے بازوں کے لیے شدید مشکلات پیش کیں

یاسر شاہ ذوالفقار بابر اور محمد حفیظ کے ٹرائیکا نے مصباح الحق کے حوصلے بلند رکھے ہیں اور فاسٹ بولرز کے لیے وکٹ میں مدد نہ ہونے کے باوجود راحت علی اور عمران خان دل وجان سے بولنگ کرکے اپنا فرض نبھاتے آئے ہیں ۔

راحت علی اسوقت پاکستانی بولنگ اٹیک کے خاموش ہیرو ہیں جنہوں نے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے اور متحدہ عرب امارات کی وکٹیں فاسٹ بولرز کے لیے سازگار نہ ہونے کے باوجود پہلے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں اور اب اس میچ میں بڑی عمدہ بولنگ کی ہے ۔

پاکستان کی دوسری اننگز کی خاص بات محمد حفیظ کی سنچری تھی جو پہلی اننگز میں صرف چار رنز کی کمی سے مکمل نہ ہوسکی تھی لیکن دوسری اننگز میں وہ خوب کھیلے اور دو سال میں اپنی پہلی سنچری سکور کرنے میں کامیاب ہوئے ۔

یہ انہی کی عمدہ بیٹنگ تھی جس نے کپتان مصباح الحق کو یہ موقع فراہم کردیا کہ وہ پاکستان کی مسلسل پانچویں اننگز ڈکلیئر کرسکیں۔

اسی بارے میں