آئی پی ایل فکسنگ میں بڑے ناموں کا انکشاف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس کیس کی اگلی سماعت 24 نومبر کو ہوگی

بھارت کی سپریم کورٹ نے آئی پی ایل کے میچوں میں سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کے الزامات کی سماعت کے دوران جمعے کو کئی ایسے بڑے ناموں کا انکشاف کیا جن کے خلاف ان الزامات کے سلسلے میں تفتیش کی گئی ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان لوگوں پر کوئی جرم ثابت ہوا بھی ہے یا نہیں۔

جن افراد کے ناموں کا انکشاف کیا گیا ان میں آئی سی سی کے چیئرمین این سری نواسن، ان کے داماد گروناتھ مئی اپن، آئی پی ایل کے چیف آپریٹنگ افسر سندر رمن اور راجستھان رائلز کے مالک راج کندرا شامل ہیں۔

سری نواسن کی کمپنی انڈیا سیمنٹس چنئی سوپر کنگز کی مالک ہے۔

آئی پی ایل میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ کے الزامات کی تفتیش مدگل کمیٹی نے کی تھی اور عدالت نے کمیٹی کی فراہم کردہ فہرست میں سے ان ناموں کا انکشاف کیا۔

سپریم کورٹ نے غیر دانستہ طور پر تین کھلاڑیوں کے نام بھی لیے لیکن بعد میں میڈیا کو ہدایت کی گئی کہ یہ نام ظاہر نہ کیے جائیں۔ ابھی صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف تفتیش کی گئی ہے۔

عدالت نے جن تین کھلاڑیوں کے نام لیے تھے، وہ کافی دیر تک ٹی وی چینلوں پر چلتے رہے کیونکہ صحافی خبر بریک کرنے کی جلدی میں سماعت کے دوران ہی عدالت سے باہر نکل آئے تھے۔

راج کندرا فلم سٹار شلپا شیٹی کے شوہر ہیں اور مرکزی تفتیشی بیورو نے بھی ان سے الزامات کے سلسلے میں تفتیش کی تھی۔

سٹے بازی کے الزامات سامنے آنے کے بعد سری نواسن کو بی سی سی آئی کے سربراہ کے عہدے سے عارضی طور پر ہٹنا پڑا تھا اور اطلاعات کے مطابق وہ دوبارہ واپس آنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس کیس میں درخواست گزار اور بہار کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ آدتیہ ورما کے مطابق فہرست میں چھ اور نام شامل ہیں۔

اس کیس کی اگلی سماعت 24 نومبر کو ہوگی۔

آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ کے الزامات گذشتہ برس سامنے آئے تھے اور اس سلسلے میں فاسٹ بالر سری سنتھ سمیت راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں