شاہی کھیل اب گدھوں پر

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مقامی لوگ اپنی زبان میں اسے ’گوردوغ غال‘ کہتے ہیں

کہتے ہے کہ پولو بادشاہوں کا کھیل ہے اس کھیل کو کھیلوں کا بادشاہ بھی کہتے ہیں، لیکن جب شاہی سواری دسترس سے باہر ہو اور لوگ کی مزاج بھی شاہی ہو تو پھر بادشاہوں کا یہ کھیل گدھوں پر بیٹھ کر بھی کھیلا جاتا ہے۔

پولو کی تاریخ قریبا ڈھائی ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ پرانے زمانے میں یہ بادشاہوں کا پسندیدہ کھیل تھا، لیکن آج کل یہ عوام اور خواص دونوں لوگوں کا پسندیدہ کھیل بن چکا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے مختلف علاقوں اور خصوصا بالائی علاقے بروغل میں خصوصی طور پر گدھا پولو بہت شوق سے کھیلا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اپنی زبان میں اسے ’گوردوغ غال‘ کہتے ہیں اور تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد اسے بہت شوق سے دیکھتی ہے۔

چترال کے ایک رہائشی شہریار نے بی بی سی کو بتایا کہ گوردوغ غال اس علاقے کا مشہور کھیل ہے اور اسے بوڑھے، بچے اور جوان یکساں طور پر کھیلتے ہیں، تاہم اس کھیل میں زیادہ تر کم عمر کھلاڑی ہی حصہ لیتے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس کھیل کے لیے پالے جانے والے گدھوں کی خاص تربیت کی جاتی ہے اور ان کی خوراک کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پولو کے ماہرین کے مطابق پولو وسطی ایشیا میں قبل از مسیح سے جاری ہے

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گدھا پولو ہارس پولو کے میدان کے نصف حصے میں کھیلا جاتا ہے تا کہ گدھوں کو زیادہ دور تک دوڑنا نہ پڑے اور وہ یہ کھیل بغیر کسی مشکل کے کھیل سکیں۔ گدھا پولو میں کھلاڑی گدھے کو کسی رسی کے بغیر آسانی سے قابو میں رکھ سکتے ہیں۔

پولو کے ماہرین کے مطابق پولو وسطی ایشیا میں قبل از مسیح سے جاری ہے جبکہ پاکستان کے شمالی علاقے گلگت میں انگریزوں نے اسے سنہ 1850 کے لگ بگ متعارف کیا تھا۔ ہندوستان پر قبضے کے بعد وہ اس کھیل کے ایسے مداح ہوئے کہ خود بھی کھیلنے لگے۔ یہاں تک کہ انیسویں صدی میں یہ خود برطانیہ کا مقبول ترین کھیل بن گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ پولو کا کھیل اس وقت دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں کھیلا جاتا ہے۔

اسی بارے میں