کیا اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیگ سپنر اش سودھی نے آخری اوروں میں پاکستانی بیٹسمینوں کے لیے مشکلات پیدا کیں

دبئی ٹیسٹ کے دوسرے دن بھی پاکستانی بولرز کے لیے نیوزی لینڈ کی پہلی اننگز کو سمیٹنا آسان نہ رہا لیکن جب پاکستان کی بیٹنگ آئی تو دونوں اوپنرز کی وکٹیں جلد گرنے کے بعد اظہرعلی اور یونس خان کے سامنے وہی تصویر ہے جو آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں دونوں اوپنرز کے آؤٹ ہو جانے کے بعد تھی۔

تو کیا ان دونوں کی زبردست بیٹنگ فارم کا سلسلہ اس بار بھی جاری رہے گا۔

یہ تو تیسرے دن کے کھیل میں ہی دیکھنے کو ملے گا فی الحال دو دن کے کھیل کے بعد نیوزی لینڈ نے پہلی بار پاکستان کو دباؤ میں لیا ہوا ہے۔

تفصیلی سکور کارڈ

نیوزی لینڈ کی ٹیم دوسرے دن دو مواقعوں پر دو دو وکٹیں جلد گنوانے کے باوجود سیریز میں پہلی بار پاکستانی بولنگ پر حاوی ہوتے ہوئے 400 کا سکور پارگئی ۔

کپتان مک کیولم بھی یہی چاہتے تھے کہ وہ ٹاس جیتیں اور ان کے بیٹسمینوں کو پہلے بیٹنگ کا موقع ہاتھ آسکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی اوپنروں نے نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولروں کو اطمینان سے کھیلا لیکن اپنی وکٹیں سپنروں کو تھما گئے

پاکستانی بولرز نے دوسرے دن کی ابتدا اچھی کی تھی اور وہ ون ڈے انٹرنیشنل کے تیز ترین سنچری میکر کورے اینڈرسن اور اس میچ کے سنچری میکر ٹام لیتھم کی وکٹیں صرف آٹھ گیندوں پر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

ان دونوں کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ پاکستانی بولنگ برینڈن مک کیولم کی بڑا سکور کرنے کی خواہش پوری نہیں ہونے دے گی لیکن پھر اگلی وکٹ کے لیے پاکستانی ٹیم کو تقریباً پندرہ اوورز کا انتظار کرنا پڑگیا۔

جیمز نیشم اس اننگز میں یاسر شاہ کی دوسری وکٹ بنے تو بی جے واٹلنگ اور مارک کریگ بولرز کی جان کو آگئے جنہوں نے اگرچہ ساتویں وکٹ کی شراکت میں صرف اڑسٹھ رنز بنائے لیکن تقریباً اکتیس اوورز کریز پر گزارگئے۔

یہ شراکت طول نہ پکڑتی اگر راحت علی نو رنز کے انفرادی سکور پر مارک کریگ کا کیچ ڈراپ نہ کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹیم کے سکور کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ایک بار پھر یونس خان کے کندھوں پر آن پڑی ہے

بولرز کے صبر کا امتحان لینے والی یہ شراکت جزوقتی بولر اظہرعلی کے ہاتھوں ٹی ٹوٹی جنہوں نے متبادل کی حیثیت سے فیلڈنگ کرنے والے جزوقتی فیلڈر حارث سہیل کی مدد سے واٹلنگ کو پویلین کی راہ دکھائی۔

پانچ گیندوں بعد مارک کریگ نے ذالفقار بابر کی گیند وکٹوں کےسامنے پیڈ پرلگنے کی وجہ سے وکٹ گنوائی اگرچہ اپنی وکٹ بچانے کے لیے انہوں نے ریویو کا سہارا بھی لیا لیکن تھرڈ امپائر کا فیصلہ بھی فیلڈ امپائر پال رائفل کے حق میں گیا۔

نیوزی لینڈ کی آخری پانچ وکٹوں نے سکور میں ایک سو پچیس رنز کا اضافہ کیا۔

پچھلے میچ میں جارحانہ نصف سنچری بنانے والے ایش سوڈھی کے ارادے اس بار بھی خطرناک دکھائی دیے تاہم آخری وکٹ گرنے کی وجہ سے وہ بتیس رنز پر ناٹ آؤٹ رہ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ذوالفقار بابر ایک بار پھر چار وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئے

پاکستانی بولرز کی ایک سو چھپن اوورز کی میراتھن بولنگ میں ذوالفقار بابر نے سب سے زیادہ پنتالیس اوورز کیے اور ایک بار پھر چار وکٹوں کے ساتھ وہ سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئے۔

اس سیزن کے چار ٹیسٹ میچوں میں وہ اب تک 23 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

ذوالفقاربابر کے ساتھی سپنر یاسر شاہ بھی کسی طور پیچھے نہیں ہیں اور ان کی وکٹوں کی تعداد 18 ہوچکی ہے۔

تین ٹیسٹ میچوں کے بعد پہلی بار فیلڈ میں پانچ مکمل سیشن گزارنے کے بعد جب پاکستانی بولرز نے نیوزی لینڈ کو آؤٹ کیا تو بیٹنگ کے لیے انیس اوورز بچے تھے لیکن اوپنرز شان مسعود اور توفیق عمر یہ اوورز نہ گزارسکے اور نیا پار لگانے کی ذمہ داری وہ ایک بار پھر یونس خان اور اظہرعلی کو سونپ گئے۔

اسی بارے میں