سپن بولنگ کا کمال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ذوالفقار بابر پاکستان کی طرف سے سب سے کارگر ثابت ہوئے ہیں

پاکستانی ٹیم کی سپن بولنگ نے نیوز لینڈ کے دوسرے ٹیسٹ میں اپنا اثر دکھنا شروع کر دیا ہے۔

دوسری اننگز میں نیوزی لینڈ کی چھ وکٹیں گرنے کے سبب دراڑ پڑ چکی ہے تاہم گرتے پڑتے وہ 177 رنز کی سبقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔

پاکستانی بولرز کو آخری دن جلد سے جلد بساط لپیٹنی ہوگی ورنہ اگر کچھ اور رنز اس کے کھاتے میں جمع ہوگئے تو پھر یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ میچ کی چوتھی اننگز پاکستانی ٹیم کو کھیلنی ہے ۔

آؤٹ آف فارم راس ٹیلر اپنی ٹیم کے نقطہ نظر سے صحیح وقت پر فارم میں آئے ہیں اور ان کی وکٹ پر موجودگی ہی نیوزی لینڈ کی آخری امید ہے ۔

برینڈن مک کیولم کا آغاز جارحانہ تھا اور انھوں نے راحت علی کے پہلے ہی اوور میں تین چوکے لگائے۔ ان کے مقابلے میں خاموش دکھائی دینے والے ٹام لیتھم نے گیارہویں اوور میں یاسر شاہ کے ہاتھوں آؤٹ ہوکر جیسے پاکستانی بولرز کے لیے راستہ کھول دیا ۔

ذوالفقاربابر نے چار گیندوں میں ولیم سن اور برینڈن مک کیولم کو آؤٹ کرکے سپن بولنگ کی اہمیت ثابت کی تو دوسری طرف سے یاسر شاہ نے بھی ضرورت سے زیادہ ٹرن ہوئی گیند پر اینڈرسن کو بولڈ کردیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاسر شاہ کی بولنگ نے خوب جادو جگایا ہے

جیمز نیشم کو بھی ذوالفقار بابر کی گیند پر کچھ کرنے کا وقت ہی نہ مل سکا اور بی جے واٹلنگ نے یاسر شاہ کی گیند کو مایوسی کے عالم میں اسد شفیق کی گرفت میں جاتے دیکھا۔

اس سے قبل پاکستانی ٹیم کو دباؤ سے نکال کر کھلی فضا میں واپس لانے کا سہرا وکٹ کیپر سرفرازاحمد کےسر جاتا ہے جن کے لیے ایک بڑی اننگز بڑی آسانی سے کھیل لینا معمول بن چکا ہے۔

سرفراز احمد جب کریز پر تھے تو ان کے سامنے آخری مستند بیٹسمین اسد شفیق بھی پویلین لوٹ چکے تھے لیکن ٹیل اینڈرز کے ہوتے ہوئے بھی وہ نہ صرف خود پرسکون انداز میں کھیلے بلکہ آخری بیٹسمین راحت علی کو بھی خوب کھلایا بلکہ یوں کہہ لیں کہ انہیں کیویز کے شکار سے بچائے رکھا ۔

جب آخری بیٹسمین راحت علی میدان میں اترے تو نیوزی لینڈ کی برتری نوے رنز کی تھی جو نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی آخری وکٹ کے لیے 81 رنز کی ریکارڈ شراکت کے نتیجے میں صرف دس رنز رہ گئی۔

سرفراز احمد برینڈن مک کیولم کی پہلی وکٹ بنے جو 89 ویں ٹیسٹ میچ میں ان کے کھاتے میں درج ہوئی ہے۔

طویل انتظار کے بعد پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کرنے کی یہ دوسری مثال ہے ۔ انگلینڈ کے کپتان الیسٹرکک نے جس میچ میں اپنی پہلی وکٹ حاصل کی وہ ان کا ایک سو پانچ واں ٹیسٹ میچ تھا۔

سرفراز احمد کی یہ تیسری ٹیسٹ سنچری ہے جو اسی سال بنی ہے۔ وہ اس سال ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے وکٹ کیپر بیٹسمین بھی بنے ہیں۔

اس سال پاکستانی ٹیم ٹیسٹ میچوں میں اٹھارہ سنچریاں سکور کرچکی ہے جو دوسرے نمبر کی ٹیم سری لنکا سے چھ زیادہ ہیں۔

اسی بارے میں