آسٹریلیا ایک روزہ میچوں کی رینکنگ میں سرفہرست

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سٹیو سمتھ کو مین آف سیریز قرار دیا گیا

آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کو پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے آخری میچ میں بھی شکست دے کر سیریز چار ایک سے جیت لی ہے۔

اس فتح کے نتیجے میں آسٹریلوی ٹیم ایک روزہ کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست آگئی ہے۔

سڈنی میں اتوار کو کھیلے گئے آخری ایک روزہ میچ میں جنوبی افریقہ کی ٹیم نے اوپنر کونٹن ڈی کاک کی شاندار 107 رنز کی اننگز کی بدولت 50 اوور میں 280 رنز بنائے۔

تاہم بارش سے متاثرہ میچ میں ڈک ورتھ لوئس طریقے کے تحت آسٹریلوی ٹیم کو 48 اوور میں 275 رنز کا ہدف ملا۔

آسٹریلیا کی ٹیم بڑے سکون کے ساتھ اپنے ہدف کی طرف گامزن تھی کہ 264 رنز کے مجموعی سکور پر اچانک اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہو گئے جس سے میچ میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔

آخر کار مقررہ 48 اوور ختم ہونے سے پانچ گیندوں قبل ہی جیمز فالکنر نے آسٹریلیا کے طرف سے آخری شاٹ لگا کر 280 رنز کا ہدف حاصل کر لیا۔

اس جیت کے بعد آسٹریلیا آئی سی سی انٹرنیشنل رینکنگ میں بھارت سے صفر اعشاریہ دو پوائنٹس کی سبقت سے پہلے نمبر پر آ گیا جبکہ جنوبی افریقہ کا تیسرا نمبر ہے۔

آخری میچ سے قبل آسٹریلیا کو جنوبی افریقہ پر دو میچوں کی سبقت حاصل تھی۔

اس میچ میں جنوبی افریقہ کو مایہ ناز وکٹ کیپر اے بی ڈی ویلیئر کی خدمات حاصل نہیں تھیں لیکن اس کے باوجود جنوبی افریقہ نے 280 رنز بنا ڈالے جو کہ ایک روزہ میچوں میں ایک اچھا سکور سمجھا جاتا ہے۔

ڈی کاک کے علاوہ فرحان بہاردین نے 41 گیندوں پر 63 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔

جنوبی افریقہ کے بولنگ اٹیک میں ڈیل سٹین کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ کاٹ نہیں تھی جس کا آسٹریلوی بلے بازوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور ایرون فنچ نے 67 گیندوں پر 76، شین واٹسن نے 82 اور سٹیو سمتھ نے 67 رنز بنا کر آسٹریلیا کی ٹیم کی جیت کو یقینی بنا دیا۔

لیکن اس سیریز کے مین آف دی میچ قرار پانے والے سٹیو سمتھ کے آوٹ ہونے پر آسٹریلیا کو 25 گیندوں پر گیارہ رنز درکار تھے۔ اس وقت پیٹرسن نے ایک میڈن اوور میں دو کھلاڑیوں کو آوٹ کر دیا اور یوں آسٹریلیا کے لیے میچ جیتنے کے لیے تیرہ گیندیں بچیں جس میں اسے ابھی آٹھ رنز بنانے تھے۔

فالکنر نے اپنے اعصاب کو قابو میں رکھا اور آخری اوور کی پہلی گیند پر چوکا لگا کر میچ جیت لیا۔

آسٹریلیا کو چار ٹیسٹ میچوں میں بھارت کی میزبانی کرنی ہے اور اس کے بعد جنوری میں سہ ملکی ایک روزہ سیریز کھیلنی ہے جس میں بھارت کے علاوہ انگلینڈ کی ٹیم شرکت کرے گی۔

اس سیریز کے ختم ہوتے ہی دنیا کے یہ تین بڑے کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کی ٹیم میں عالمی کپ میں شرکت کریں گی۔