حفیظ کے بازو کی قوت کہنی کے خم سے زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption محمد حفیظ کی 178 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز نے پاکستانی ٹیم کوسکور بورڈ پر ایک بڑا سکور سجانے کا موقع فراہم کردیا ہے

محمد حفیظ کی کہنی کا خم کتنا ہے؟ اس بارے میں آئندہ چند روز میں پتہ چلے گا جب ان کے بولنگ ایکشن کی رپورٹ آئےگی لیکن ان کے بازو میں کتنی قوت ہے اس کا اندازہ شارجہ ٹیسٹ کے پہلے دن ہی ان کی شاندار سنچری سے ہوگیا۔

محمد حفیظ ہمسٹرنگ کی تکلیف کے سبب دبئی ٹیسٹ نہیں کھیلےتھے اسی دوران انھیں اپنے بولنگ ایکشن کے بائیو مکنیک تجزیے کے لیے انگلینڈ بھی جانا پڑا جس سے نمٹتے ہی وہ نیوزی لینڈ کے بولرز سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار تھے۔

محمد حفیظ کی 178 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز نے پاکستانی ٹیم کوسکور بورڈ پر ایک بڑا سکور کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔

احمد شہزاد اور محمد حفیظ کی غیرموجودگی کے اثرات دبئی ٹیسٹ میں واضح طور پر محسوس کیے گئے تھے جہاں دونوں اوپنرز توفیق عمر اور شان مسعود کچھ نہ کرسکے تھے۔

شارجہ میں توفیق عمر کا باہر بیٹھنا یقینی تھا لیکن شان مسعود کو ایک اور موقع مل گیا تاہم وہ اس سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احمد شہزاد اور محمد حفیظ کی غیرموجودگی کے اثرات دبئی ٹیسٹ میں واضح طور پر محسوس کیے گئے تھے جہاں دونوں اوپنرز توفیق عمر اور شان مسعود کچھ نہ کرسکے تھے

گیند نے ان کے بلے اور پیڈ کے درمیان راستہ دیکھ لیا ہے ۔ وہ اب تک چھ اننگز میں تین مرتبہ بولڈ ہوچکے ہیں اور اپنی پہلی ٹیسٹ اننگز میں 75 رنز بنانے کے بعد سے وہ اپنے کھاتے میں رنز نہیں بلکہ مایوسی بڑھاتے جا رہے ہیں۔

محمد حفیظ نے ایک اینڈ سنبھالتے ہوئے اپنا کام خوب دکھایا لیکن اننگز کے استحکام کے لیے ٹیم جن دو اہم بیٹسمینوں اظہرعلی اور یونس خان کی جانب دیکھ رہی تھی اس بار ان سے توقعات پوری نہ ہوسکیں۔

دونوں گھاؤ پاکستانی ٹیم کے لیے بڑے مہلک تھے خاص کر یونس خان کا آؤٹ ہونا جو اس سیزن میں کسی بولر کے ہاتھ آسانی سے لگنے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن ڈینئل ویٹوری ان کی وکٹ لے اڑے اور ریویو بھی یونس خان کو نہ بچا سکا۔

ویٹوری نے ڈھائی سال کی غیرحاضری کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں چونکا دینے والی انٹری دی ہے اور ان کی ٹیم میں اچانک شمولیت پر مصباح الحق نے اپنے بیٹسمینوں کو پہلے ہی متنبہ کردیا تھا کہ انھیں توجہ اور احتیاط سے کھیلنے کی ضرورت ہے۔

اظہرعلی اور یونس خان کی وکٹیں گرنے کے بعد مصباح الحق کو اپنی اننگز کی اہمیت کا بخوبی اندازہ تھا۔

انھوں نے نہ صرف خود سرجھکا کر بیٹنگ کی بلکہ حفیظ کو پورا موقع دیا کہ وہ سراٹھا کر سٹروکس کھیلیں تاہم وہ بی جے واٹلنگ کے بھی شکر گزار ہوں گے جنھوں نے 20 کے سکور پر کیچ ڈراپ کرکے انھیں پہلے دن 38 رنز پر ناٹ آؤٹ واپس جانے کا موقع فراہم کیا۔

شارجہ ٹیسٹ کا پہلا دن محمد حفیظ کے نام لکھا جائے گا جو اپنی پہلی ٹیسٹ ڈبل سنچری کی جانب گامزن ہیں۔

شارجہ سٹیڈیم کی وکٹ پر نہ گھاس ہے نہ دراڑیں بلکہ آئینے جیسی صاف کہ دھوپ کی چمک میں اپنا چہرہ خوب دکھائے اور جب کسی وکٹ کی حالت ایسی ہو تو ٹاس جیتنے والا کپتان پہلے بیٹنگ نہ کرے تو پھر کیا کرے؟۔

ٹاس جیت کر مصباح الحق کے چہرے کی مسکراہٹ نے بتا دیا تھا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں۔

اسی بارے میں