باؤنسر سے زخمی ہونے والے فلپ ہیوز چل بسے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وفات پانے سے پہلے وہ تکلیف میں نہیں تھے: ترجمان کرکٹ آسٹریلیا

کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق آسٹریلوی بیٹسمین فلپ ہیوز وفات پا گئے ہیں۔ انھیں منگل کو سڈنی میں آسٹریلیئن فرسٹ کلاس کرکٹ کے ایک میچ کے دوران سر پر گیند لگنے سے شدید چوٹ آئی تھی۔

25 سالہ ہیوز سڈنی کے ایک ہسپتال میں داخل تھے۔ گذشتہ روز شیفیلڈ شیلڈ کے ایک میچ کے دوران انھیں نیو ساؤتھ ویلز کے بولر شان ایبٹ کا باؤنسر لگا تھا جس کے نتیجے میں وہ پچ پرگر پڑے تھے۔

آسٹریلین کرکٹ بورڈ کے سربراہ جیمز سدرلینڈ نے کہا: ’اس واقعے نے ہم سب کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کھیل کی دنیا میں لفظ ’المیہ‘ عام استعمال کیا جاتا ہے، لیکن یہ عجیب و غریب حادثہ صحیح معنوں میں المیہ ہے۔‘

آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک نے فل ہیوز کے والدین، بہن میگن اور بھائی جیسن کی جانب سے سینٹ ونسنٹ ہسپتال میں ایک بیان پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے عزیز بیٹے اور بھائی فلپ کی موت ہمارے لیے تباہ کن ہے۔ گذشتہ چند روز بہت مشکل رہے ہیں۔ ہم خاندان کے افراد، دوستوں، کھلاڑیوں، کرکٹ آسٹریلیا اور عوام کی جانب سے مدد کی قدر کرتے ہیں۔

’کرکٹ فلپ کی زندگی تھی اور ہمارا پورا خاندان ان کی اس کھیل سے محبت میں شریک تھا۔ ہم سینٹ ونسنٹ ہسپتال کے تمام طبی عملے اور نیوساؤتھ ویلز کرکٹ کے میڈیکل سٹاف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

اس سے قبل کرکٹ آسٹریلیا کے ایک ترجمان کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’آپ کو یہ بتانا میرا افسوس ناک فرض ہے کہ تھوڑی دیر پہلے فلپ ہیوز چل بسے۔ منگل کو کوما میں چلے جانے کے بعد سے انھیں ہوش نہیں آیا۔

’وفات پانے سے پہلے وہ تکلیف میں نہیں تھے اور ان کے اردگرد ان کا خاندان اور دوست جمع تھے۔‘

’کرکٹ کمیونٹی ان کے وفات پانے پر افسردہ ہے اور ان کے خاندان اور دوستوں کے ساتھ افسوس کا اظہار کرتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شان ایبٹ کے باؤنسر کے نتیجے میں فل ہیوز پچ پرگر پڑے تھے

آسٹریلوی وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ نے بھی فلپ ہیوز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ان کی موت کرکٹ اور ان کے خاندان کے لیے بہت ہی افسوس ناک واقعہ ہے۔‘

بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے آسٹریلوی بیٹسمین کو گیند لگنے کے بعد سٹریچر پر میدان سے باہر لے جایا گیا اور پھر فوراً ایمبولنس پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی سرجری ہوئی اور انھیں کوما میں رکھا گیا۔

کرکٹ آسٹریلیا نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس دور کے شیفیلڈ شیلڈ میچوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

فل ہیوز نے 2009 سے سنہ 2013 کے درمیان 26 ٹیسٹ ميچوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرتے ہوئے تین سنچریوں اور سات نصف سنچریوں کی مدد سے ڈیڑھ ہزار سے زیادہ رنز بنائے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق فلپ ہیوز کی موت کے سوگ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کا کھیل ایک دن کے لیے موخر کر دیا ہے۔

اسی بارے میں