پاکستان، نیوزی لینڈ کی ٹی 20 سیریز فل ہیوز کے نام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت شاہد آفریدی کر رہے ہیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ نے جمعرات سے دبئی میں شروع ہونے والی دو ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کی ٹرافی آسٹریلوی بلے باز فل ہیوز کی ناگہانی موت کے بعد ان کے نام سے منسوب کر دی ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر رہی تھی۔

پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے آسٹریلوی بیٹسمین فل ہیوز کی موت کے بارے میں کہا کہ ان کی موت سے کرکٹ کی دنیا کو دھچکہ لگا ہے۔

انھوں نے بدھ کو ایک بیان میں کہا: ’فل ہیوز کی موت سے ہر ایک کو دھچکہ پہنچا ہے۔ ہم سپانسروں کے شکرگزار ہیں جنھوں نے اس ٹرافی کو فل ہیوز کے نام کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

واضح رہے کہ فل ہیوز کو سڈنی میں کھیلے جانے والے میچ میں باؤنسر لگا تھا اور وہ دو دن ہسپتال میں کوما میں رہنے کے بعد گذشتہ جعمرات کو انتقال کر گئے تھے۔

آسٹریلوی کرکٹر فلپ ہیوز کو آسٹریلیا کے شہر میکس ول میں بدھ کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم عالمی کپ کی تیاری کے فیصلے کن مرحلے کے طور پر نیوزی لینڈ کے خلاف محدود اووروں کے میچوں کی سیریز جمعرات سے شروع کرنے والی ہے۔

یہ سلسلہ جمعرات کی شب دبئی میں پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سے شروع ہو رہا ہے۔

دو میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچ جمعے کو دبئی ہی میں کھیلا جائے گا جس کے بعد دونوں ٹیمیں آٹھ دسمبر سے پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں مدمقابل ہوں گی۔

پاکستانی ٹیم کے لیے نیوزی لینڈ کے خلاف یہ سیریز اس لیے بھی اہم ہے کہ متحدہ عرب امارات میں اس نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ میں سے تین ٹیسٹ میچ جیتے، لیکن آسٹریلیا کے خلاف اسے واحد ٹی ٹوئنٹی اور پھر ایک روزہ میچوں کی سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور پھر نیوزی لینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ میں شکست سے بھی اس کا تسلسل ٹوٹا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت شاہد آفریدی کر رہے ہیں۔

وہ اس طرز کی کرکٹ میں سعید اجمل کی 85 اور عمرگل کی 80 وکٹوں کے بعد 78 وکٹیں لے کر تیسرے سب سے کامیاب بولر ہیں، تاہم حالیہ میچوں میں وہ خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

شاہد آفریدی بحیثیت کپتان بھی ٹی ٹوئنٹی میں کامیاب نہیں رہے ہیں۔ 20 میچوں میں وہ صرف آٹھ میچ جیت پائے ہیں جبکہ 12 میچوں میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو کسی بھی پاکستانی کپتان کی ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سب سے خراب کارکردگی ہے۔

پاکستانی ٹیم میں اوپنر احمد شہزاد، فاسٹ بولر وہاب ریاض اور عمرگل کی واپسی ہوئی ہے۔

احمد شہزاد نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ میں کورے اینڈرسن کی گیند سر پر لگنے کے بعد وطن واپس آ گئے تھے، جب کہ عمرگل اور وہاب ریاض گھٹنے کی تکلیف کےسبب ٹیم سے باہر رہے تھے۔

عمرگل نے آخری بار پاکستان کی نمائندگی اس سال ڈھاکہ میں ہونے والے ورلڈ ٹی 20 میں کی تھی۔

نیوزی لینڈ کے تین اہم کھلاڑی کپتان برینڈن میک کلم، ٹرینٹ بولٹ اور ٹم ساؤدی آرام کی غرض سے وطن واپس جا چکے ہیں اور قیادت کی ذمہ داری کین ولیمسن کے سپرد کی گئی ہے۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان نو ٹی ٹوئنٹی کھیلے جا چکے ہیں جن میں سے پاکستان نے چھ جیتے اور تین میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسی بارے میں