نیوزی لینڈ کی ٹیم بھاری سکور تلے دب گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption احمد شہزاد تینوں فارمیٹ میں یکساں مہارت اور بڑے دل کے ساتھ بیٹنگ کر رہے ہیں

فٹنس اور مشکوک بولنگ ایکشن کے مسائل میں گھری پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اہم جیت مل گئی جس نے اسے پانچ میچوں کی سیریز میں دو ایک سے آگے کردیا ہے۔

اپنے پسندیدہ شارجہ کے میدان میں کھیلتے ہوئے پاکستانی ٹیم اس میدان کا سب سے بڑا سکور364 رنز بناڈالا۔

یہ اسی بھاری بھرکم سکور کا دباؤ تھا جس سے نیوزی لینڈ کی ٹیم نہ نکل سکی۔

147 رنز کی اس جیت کی بنیاد درحقیقت احمد شہزاد کی شاندار سنچری اور شاہد آفریدی کی جارحانہ نصف سنچری نے رکھ دی تھی۔

شاہد آفریدی مصباح الحق کے ان فٹ ہونے کے سبب ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں اور انھوں نے کپتان بنتے ہی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے خود بیٹنگ آرڈر میں اوپر آ کر تیز رنز بنانے کا جو سوچا اسے کر دکھایا۔

احمد شہزاد اس وقت بجا طور پر واحد پاکستانی بیٹسمین ہیں جو تینوں فارمیٹ میں یکساں مہارت اور بڑے دل کے ساتھ بیٹنگ کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس میچ میں بھی انتہائی خوبصورت اسٹروکس کھیلے اور نیوزی لینڈ کی بولنگ پر حاوی رہے۔

محمد حفیظ نے ایک بار پھر اعتماد سے اننگز کا آغاز کیا اور خیال یہی تھا کہ وہ ایک بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔

یونس خان نے اگرچہ گذشتہ میچوں کے مقابلے میں ہاتھ کھولے لیکن وہ ایک ایسی اننگز نہ کھیل پائے جو انھیں ون ڈے ٹیم میں رہنے کے لیے درکار اعتماد فراہم کر سکے۔

اسد شفیق حسب معمول خاموش بیٹنگ کر کے چلے گئے۔

حارث سہیل اپنے 39 رنز کو بڑی اننگز میں تبدیل نہ کر سکے لیکن ان کی شاہد آفریدی کے ساتھ 79 رنز کی شراکت نے پاکستانی اننگز کو استحکام ضرور دیا۔

یہ شاہد آفریدی کی جارحانہ بیٹنگ تھی جس نے نیوزی لینڈ کی بولنگ کو تین چھکوں اور چھ چوکوں سے تتر بتر کردیا۔ وکٹ کیپر سرفراز احمد کے 30 اور سہیل تنویر کے 17 رنز بھی سکور کا وزن بڑھاگئے۔

پاکستانی بیٹسمینوں نے آخری 10 اوورز میں125 رنز کا اضافہ کیا۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم365 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کسی بھی موقع پر پاکستانی ٹیم کے لیے بڑاخِطرہ نہ بن سکی۔

محمد عرفان نے پہلی دو وکٹیں حاصل کرکے پھر اپنی اہمیت جتائی تو شاہد آفریدی نے جارحانہ انداز اختیار کرنے والے راس ٹیلر کو بولڈ کردیا۔

محمد حفیظ کی غیرموجودگی میں حارث سہیل نے پانچویں بولر کا کردار ایک بار پھر تین وکٹوں کی عمدہ بولنگ سے خوب نبھایا۔

نیوزی لینڈ کی خراب حالت دیکھ کر آفریدی نے احمد شہزاد سے بھی بولنگ کرا ڈالی اور وہ بھی اپنی پہلی ون ڈے وکٹ کی خوشی پانے میں کامیاب ہوگئے۔

خود آفریدی نے اننگز کا اختتام تین وکٹوں پر کیا۔ گویا یہ میچ ان کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کے سبب یاد رہے گا۔

ولیم سن کے آؤٹ ہونے کے بعد نیوزی لینڈ کے ہاتھ کچھ بھی نہ بچا تھا۔بیٹسمین آتے گئے اور جاتے گئے۔

اسی بارے میں