مسلسل تیسری ون ڈے سیریز ہاتھ سے گئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیوزی لینڈ سے پہلے پاکستان سری لنکا اور آسٹریلیا سے ون ڈے سیریز ہار چکا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف پانچواں ون ڈے ہار کر ورلڈ کپ کی تیاری کی آخری سیریز بھی ہاردی۔

سری لنکا اور آسٹریلیا کے بعد یہ مسلسل تیسری ون ڈے سیریز ہے جو پاکستانی ٹیم کی شکست پر ختم ہوئی ہے۔

سب سے اہم بات کہ یہ سیریز بھی ان پندرہ کھلاڑیوں کی نشاندہی نہ کرسکی جو عالمی کپ کے اسکواڈ میں شامل ہونگے۔

کپتان مصباح الحق کے بعد محمد حفیظ بھی ہیمسٹرنگ کا شکار ہوگئے ہیں۔

ستم بالائے ستم مشکوک بولنگ ایکشن کے سبب انہیں معطلی کا سامنا ہے۔ یہی صورتحال سعید اجمل کے ساتھ بھی درپیش ہے ۔

فاسٹ بولنگ عمرگل اور جنید خان جیسے تجربہ کار بولرز کے ان فٹ ہونے کے سبب بکھری پڑی ہے۔ محمد عرفان ۔ وہاب ریاض سہیل تنویر اور انور علی میں صرف ایک محمد عرفان ہی ہیں جو اگر فٹ رہے تو آسٹریلوی وکٹوں پر حریف بیٹسمینوں کا سکون غارت کرسکتے ہیں باقی تلوں میں تیل نہیں۔

بیٹسمینوں میں آؤٹ آف فارم اسد شفیق اور ناصر جمشید کو آزما کر دیکھ لیا گیا لیکن نتیجہ ڈھاک کے تین پات۔

یونس خان نے ایک سنچری کی خوشی دی لیکن اگلے ہی میچ میں ان کا بیٹ خاموش ہوگیا۔

عمراکمل نے گزشتہ میچ میں انتیس رنز کی مختصر لیکن عمدہ اننگز کھیلی تھی مگر اس بار وہ صرف بارہ گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے۔

اس سال ایشیا کپ میں افغانستان کے خلاف سنچری کے بعد سے وہ گیارہ اننگز میں صرف ایک نصف سنچری بناسکے ہیں۔

حارث سہیل کی نصف سنچری نے ان کا اعتماد ضرور بڑھایا لیکن انتالیسویں اوور میں وہ بھی ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑ گئے۔

شاہد آفریدی اننگز میں ہنری کی پانچویں وکٹ بنے اور ان کے آؤٹ ہوتے ہی چھٹی والا کراؤڈ بھی گھر کو چل دیا۔

پاکستانی ٹیم مسلسل دوسرے میچ میں ہدف عبور کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ نے اپنے دو قابل اعتماد بیٹسمینوں ولیم سن اور راس ٹیلر کی عمدہ بیٹنگ کے سبب چار وکٹوں پر دو سو پچہتر رنز بنائے۔

ولیم سن مسلسل دوسری سنچری صرف تین رنز کی کمی سے مکمل نہ کرسکے۔

وہ دس اننگز میں آٹھ مرتبہ پچاس یا زائد اسکور کرچکے ہیں۔

راس ٹیلر نے اٹھاسی رنز ناٹ آؤٹ کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔

پاکستان نے اس میچ میں محمد عرفان کے ساتھ ذوالفقار بابر سے بولنگ کی ابتدا کی لیکن ٹیسٹ سیریز میں کامیاب رہنے والے بابر خاص تاثر نہ چھوڑسکے۔

پاکستانی بولرز میں شاہد آفریدی اور حارث سہیل ہی رنز کی رفتار پر قابو پانے میں کامیاب رہے۔

نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں کے لیے اس وکٹ پر جارحانہ اسٹروکس کھیلنا آسان نہ تھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک بار دس اوورز اور دوسری بار بارہ اوورز کسی چوکے کے بغیر گزرگئے تاہم آخری پانچ اوورز میں نیوزی لینڈ نےپچپن رنز اسکور کرڈالے۔

اسی بارے میں