فیفا کی صدرات پر حکام اور بلیٹر کے درمیان خفیہ گفتگو

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جوں جوں انتخابات کے لیے امیدوار کی 29 جنوری کی ڈیڈ لائن قریب آتی جا رہی ہے فیفا کی انتظامیہ میں ادارے کی سمت اور سربراہ کے بارے میں تشویش نظر آ رہی ہے

بی بی سی سپورٹس کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق فٹبال کے عالمی ادارے فیفا کے اہلکاروں اور اس کے صدر سیپ بلیٹر کے درمیان صدر کے مستقبل کے بارے میں پوشیدہ بات چیت ہوئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ گفتگو جس میں فٹبال کنفیڈریشن کے بہت سے نمائندے شامل ہیں، اکتوبر سنہ 2013 میں فٹبال ایسوسی ایشن کی ڈیڑھ سو سالہ تقریبات کے موقعے پر شروع ہوئی تھی۔

اس کے بعد بلیٹر نے واضح کیا تھا کہ وہ مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں شامل ہوں گے اور پانچویں بار اس ادارے کی سربراہی کرنا چاہیں گے۔

جوں جوں انتخابات کے لیے امیدوار کی 29 جنوری کی ڈیڈ لائن قریب آتی جا رہی ہے، فیفا کی انتظامیہ میں ادارے کی سمت اور سربراہ کے موضوع پر تشویش نظر آ رہی ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں منیلا میں بات کرتے ہوئے بلیٹر نے کہا تھا کہ فیفا کو بنانے والی چھ کنفیڈریشنز میں سے انھیں پانچ کی حمایت حاصل ہے۔

بی بی سی سپورٹس کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ورلڈ کپ منعقد کرانے کے لیے لگائی جانے والی بولیوں سے پیدا شدہ بحران کے اثرات ’دور رس‘ ہو سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ fifa
Image caption یوروپین یونین کنفیڈریشن یوایفا بلیٹر کے صدر بنے رہنے کے ارادے کی مخالف رہی ہے

اس معاملے میں اخلاقیات کمیٹی کے جانچ سربراہ مائیکل گارشیا نے گذشتہ ہفتے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انھوں نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا: ’فیفا کے انصاف کے نظام میں آزادی کی کمی ہے‘ اور ان کا خیال ہے کہ ’تنظیم کا کلچر ناقابل اصلاح‘ ہے۔

بی بی سی سپورٹس سے بات کرتے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ طرح طرح کے سکینڈلوں سے لڑتے لڑتے مسٹر بلیٹر بہت زیادہ ’تھک چکے ہیں۔‘

فیفا کے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ تازہ واقعات کی روشنی میں کئی نئے چیلنج ان کی امیدواری کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔

سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ اگر بلیٹر مئی میں ہونے والے انتخابات میں صدارتی امیدوار نہیں بنتے ہیں تو کیا وہ ان پانچ کنفیڈریشنز کے کسی صدر کی امیدواری کی حمایت کریں گے جن کے بارے میں انھوں نے عوامی سطح پر کہا تھا کہ انھیں ان کی حمایت حاصل ہے؟

یوروپین یونین کنفیڈریشن بلیٹر کے صدر بنے رہنے کے ارادے کی مخالف رہی ہے۔

ایف اے چیئر مین گریگ ڈائک سمیت یورپین فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہوں نے بلیٹر سے جون میں ساوپاؤلو میں کہا کہ انھیں کھیل کے حق میں انتخابات سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔

اس کے باوجود ابھی تک اس کی جانب سے کسی امیدوار کا نام سامنے نہیں آيا ہے، جبکہ مائیکل پلاٹینی نے جولائی میں کہا تھا کہ وہ امیدوار نہیں ہوں گے۔

اسی بارے میں