’کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے دروازہ توڑ سیلیکشن‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمراکمل کا آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ریکارڈ متاثر کن نہیں ہے

’کچھ کرکٹر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے آتے ہیں۔ کچھ پچھلے دروازے سے لائے جاتے ہیں اور کچھ دروازہ توڑ کر پاکستانی ٹیم میں آتے ہیں۔ زبردست سہیل خان۔‘

یہ سابق کپتان راشد لطیف کے وہ تاثرات ہیں جو انھوں نے ورلڈ کپ اسکواڈ کے اعلان پر فیس بک پر اپنے صفحے پر درج کیے ہیں۔

پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ کا اعلان، سہیل خان اور یاسر شاہ شامل

سہیل خان کی اس حیران کن سیلیکشن کے علاوہ 15 رکنی ٹیم میں کوئی بھی نام غیرمتوقع معلوم نہیں ہوتا، لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ سہیل خان نے کسی کا حق مارا ہو اور ٹیم میں آگئے ہوں۔

اس سیزن میں ان کی غیرمعمولی بولنگ اور چند روز سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر راشد لطیف کی جانب سے ان کی اس غیر معمولی بولنگ کو اجاگر کیےجانے کے بعد سلیکٹروں نے بھی سہیل خان کی طرف نگاہ دوڑائی اور وہ پہلے سے آزمائے گئے انور علی، بلاول بھٹی اور سہیل تنویر پر انھیں ترجیح دینے پر مجبور ہو گئے۔

کئی روز سے جاری سیلیکشن کے عمل کے دوران کپتان مصباح الحق نے بھی سلیکٹروں کے سامنے یہی نکتہ رکھا تھا کہ مکمل فاسٹ بولر ہی ٹیم کی ضرورت ہے اور وہ تین مکمل فاسٹ بولروں کے ساتھ ہی میدان میں اتر سکتے ہیں اور ڈھائی بولروں کےساتھ نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لیگ سپنر یاسر شاہ کو1992 کے عالمی کپ میں دو لیگ سپنروں مشتاق احمد اور اقبال سکندر کی موجودگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ٹیم میں شامل کیا گیا

اس کی وجہ یہ ہے کہ سیلیکشن کمیٹی انور علی کو ٹیم میں دیکھنا چاہتی تھی۔

انور علی نیوزی لینڈ کے خلاف دو ٹی ٹوئنٹی اور دو ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں مہنگے ثابت ہوئے اور ان چار میچوں میں انھیں صرف دو وکٹیں مل سکیں۔

سہیل تنویر جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ٹیم مینیجمنٹ کی آنکھ کا تارہ بنے ہوئے ہیں، بالآخر ٹیم سے باہر ہو گئے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو سراہے جانے کےقابل ہے کیونکہ سہیل تنویر نے آسٹریلیا کے خلاف ابوظہبی کے ون ڈے میں تین وکٹیں حاصل کیں لیکن بیٹنگ میں غلط شاٹ کھیل کر انھوں نے ٹیم کو شکست سے دوچار کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption محمد عرفان کو ان کے قد کی وجہ سے بلے بازوں کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے

نیوزی لینڈ کے خلاف تین ون ڈے میچوں میں ان کی بولنگ غیرمتاثر کن رہی خاص کر ابوظہبی کے ون ڈے میں انھوں نے دس اووروں میں 75 رنز دے ڈالے۔

سہیل تنویر کی غیر مستقل مزاج کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران وہ صرف دو ہی مرتبہ کسی میچ میں تین وکٹیں حاصل کر پائے جبکہ آخری 18 میچوں میں کھیلتے ہوئے چھ مرتبہ وہ 50 سے زائد رنز دینے کے خطاوار ٹھہرے اور یہ تعین ہی نہیں ہو پا رہا کہ وہ وکٹ لینے والے بولر ہیں یا رنز روکنے والے۔

پاکستانی ٹیم مینیجمنٹ اس ورلڈ کپ میں اپنے دو بولرز محمد عرفان اور یاسر شاہ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔

لیگ سپنر یاسر شاہ کو1992 کے عالمی کپ میں دو لیگ سپنروں مشتاق احمد اور اقبال سکندر کی موجودگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے اور سیلیکشن کمیٹی کا یہ بھی خیال ہے کہ اس دورے میں چونکہ ٹیم نے کئی میچ کھیلنے ہیں لہذٰا شاہد آفریدی کی فٹنس کو بھی مدنظر رکھاگیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سہیل تنویر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ٹیم مینیجمنٹ کی آنکھ کا تارہ بنے ہوئے ہیں، بالآخر ٹیم سے باہر ہو گئے

محمد عرفان کو ان کے قد کی وجہ سے حریف بلے بازوں کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکے گا اگر وہ فٹ رہے۔ کچھ یہی صورت جنید خان کے ساتھ بھی درپیش ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کا بھی ان فٹ ہو جانا ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کر دے گا۔

احسان عادل نے برائے نام انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی ہے لیکن سلیکٹروں نے ان کی صلاحیتوں پر بھروسہ کیا ہے۔

وہاب ریاض کافی عرصے سے انٹرنیشنل کرکٹ کا حصہ ہیں تاہم ان کی بولنگ بھی دھوپ چھاؤں رہی ہے اور رنز روکنے کے معاملے میں اکثر ان کی ناکامی ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوجاتی ہے۔

جہاں تک بیٹنگ لائن کا تعلق ہے تو عمراکمل ٹیم میں شامل ہونے والے سب سے خوش قسمت بیٹسمین ہیں کیونکہ اس سال ایشیا کپ میں افغانستان کے خلاف سنچری کے بعد سے 11 اننگز میں وہ صرف ایک نصف سنچری بنا پائے ہیں۔

عمراکمل اور ان کے بھائی کامران اکمل کو اس بات پر شدید اعتراض رہا ہے کہ بیٹنگ آرڈر میں عمر اکمل کو نچلے نمبروں پر بھیج کر ان سے بڑی اننگز کی توقعات رکھی جاتی ہیں۔

کامران اکمل نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ویراٹ کوہلی کو بھی چھٹے نمبر پر کھلایا جائے تو وہ بھی سنچریاں نہیں بنا سکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وہاب ریاض کافی عرصے سے انٹرنیشنل کرکٹ کا حصہ ہیں تاہم ان کی بولنگ بھی دھوپ چھاؤں رہی ہے

عمراکمل کو اپنے کریئر میں چوتھے اور پانچویں نمبر پر بھی بیٹنگ کا موقع اسی سال ملا لیکن چوتھے نمبر پر دو اننگز میں وہ صرف 15 اور ایک جبکہ پانچویں نمبر پر کھیلتے ہوئے دو اننگز میں چار اور پانچ رنز ہی بنا پائے لہذٰا ان کا بیٹنگ آرڈر کا شکوہ بے جا معلوم ہوتا ہے۔

عمراکمل کا آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ریکارڈ بھی متاثر کن نہیں اور وہ وہاں دس ون ڈے اننگز میں صرف دو نصف سنچریاں بنا سکے ہیں اس لحاظ سے یہ ورلڈ کپ عمراکمل کی صلاحیتوں کا بہت بڑا امتحان ہے۔

سیلیکشن کے اس کھیل تماشے میں فواد عالم کو سب سے زیادہ بدقسمت کرکٹر کہا جا سکتا ہے جو ایشیا کپ میں ٹیم کے سب سے معتبر بیٹسمین تھے لیکن آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کی تین خراب اننگز نےسب کچھ ہی بدل دیا۔

دوسری طرف یونس خان کے بارے میں سیلیکشن کمیٹی کہہ چکی تھی کہ وہ ورلڈ کپ کے ان کے پلان کا حصہ نہیں ہیں، لیکن ان کے لیے حالات ایسے بدلے کہ ان کی ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش پوری ہو گئی۔

اسی بارے میں