ہالینڈ کی فٹبال لیگ میں میچ فکسنگ کے الزامات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہالینڈ کی فٹبال ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ وہ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی

ہالینڈ کے ذرائع ابلاغ میں ملک کی فٹبال لیگ میں میچ فکسنگ کے الزامات کے بعد ملک کی فٹبال ایسوسی ایشن نے معاملے کی تحقیقات کروانے کا اعلان کیا ہے۔

ملک کے موقر اخبار ڈی ولکسکرانت نے سنیچر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ 10-2009 کے سیزن کے دوران دو میچ مبینہ طور پر فکس تھے۔

ان دونوں میچوں میں ایک ٹیم ٹلبرگ کی ولم توے تھے جبکہ اس کی مدِمقابل ٹیمیں ایمسٹرڈیم سے تعلق رکھنے والی آئیکس اور روٹرڈیم کی فیئینورد تھیں۔

اخبار نے الزام لگایا ہے کہ میچ فکس کرنے کے لیے رقم سنگاپور سے تعلق رکھنے والے ایک سنڈیکیٹ نے فراہم کی تھی۔

رپورٹ میں افریقی ملک سیئرالیون سے تعلق رکھنے والے ولم توے کے مڈفیلڈر ابراہیم کارگبو کو اس معاملے کا سرغنہ قرار دیا گیا ہے۔

کارگبو نے اخبار سے بات کرتے ہوئے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔

کارگبو کو گذشتہ برس سیئرالیون کی قومی ٹیم سے تین دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ معطل کر دیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے 2008 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائر میچ فکس کیا تھا۔

ہالینڈ فٹبال ایسوسی ایشن نے اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ کو میچ فکسنگ میں ’ہالینڈ کی تاریخ میں اب تک کا سب سے ٹھوس مقدمہ‘ قرار دیا ہے۔

ایسوسی ایشن نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ ’ہم اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘

فٹبال ایسوسی ایشن نے یہ معاملہ مجرمانہ معاملات کی تحقیقات کے لیے حکام کو سونپنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ وہ اس کی اپنے طور پر بھی تحقیقات کرے گی اور اس سلسلے میں کھلاڑیوں، ریفریوں اور کلب حکام کے انٹرویوز کے علاوہ میچ کی ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

میچ فکسنگ کے الزامات سامنے آنے کے بعد ولم توے نے کہا ہے کہ کلب تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گا۔

اسی بارے میں