’محمد عامر کی کرکٹ میں واپسی ہو سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپاٹ فکسنگ کا سکینڈل اس وقت منظر عام پر آیا جب اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے ایک رپورٹر نے ایک امیر ہندوستانی کاورباری کا روپ دھار کر ایجنٹ مظہر مجید سے رابطہ کیا کہ انہیں کچھ کھلاڑیوں کا تعاون درکار ہے

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے قوانین میں تبدیلی کے بعد پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کی آئندہ ماہ کرکٹ میں واپسی ہوسکتی ہے۔

کرکٹ کی معروف ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے قوانین میں تبدیلی کے بعد پابندی کا شکار محمد عامر کی آئندہ ماہ کرکٹ میں واپسی ہوسکتی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے گذشتہ برس آئی سی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عامر پر پابندی کی شرائط میں نرمی کرے کیونکہ انھوں نے میچ فکسنگ کے الزامات کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی بحالی کی مدت پوری کر لی ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2010 میں سپاٹ فکسنگ کی پاداش میں محمد عامر ، سلمان بٹ اور محمد آصف کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم آئی سی سی کے اینٹی کرپشن ٹریبیونل کے سربراہ نے اس وقت بھی یہ کہا تھا کہ اس قانون میں نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔

محمد عامر پر الزام تھا کہ انھوں نے سنہ 2010 میں محمد آصف اور سلمان بٹ کے ساتھ مل کر انگلینڈ کے خلاف سیریز میں جان بوجھ کر نو بال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ان الزامات کے بعد آئی سی سی محمد آصف اور سلمان بٹ پر دس دس سال کی جبکہ محمد عامر پر پانچ سال کی پابندی لگائی گئی تھی۔

سپاٹ فکسنگ کا سکینڈل اس وقت منظر عام پر آیا جب اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے ایک رپورٹر نے ایک امیر ہندوستانی کاورباری کا روپ دھار کر ایجنٹ مظہر مجید سے رابطہ کیا کہ انہیں کچھ کھلاڑیوں کا تعاون درکار ہے۔

مظہر مجید نے اس رپوٹر کو بتایا تھا کہ عامر اور آصف 26 اور 29 اگست کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے دوران طے شدہ مواقع پر تین نو بال کروائیں گے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سات پاکستانی کھلاڑی ان کے لیے کام کرتے ہیں۔

محمد عامر نے لارڈز ٹیسٹ میں جان بوجھ کر دو نو بال کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ وہ اس سیریز میں مین آف دی سیریز بھی قرار پائے اور کرکٹ کے بہت سے مبصرین نے امید ظاہر کی تھی انھیں اپنا کریئر دوبارہ شروع کرنے کا ایک موقع دیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں