’پرامید ہوں کہ ایکشن کلیئر ہو جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سعید اجمل نے چنئی میں آئی سی سی کی منظور کردہ لیبارٹری سے اپنے ایکشن کا بائیومکینک تجزیے کےبعد اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کے ایکشن کو کلیئر کر دیا جائے گا۔ چنئی میں روزنامہ ہندو کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت کے دوران کہا :’مجھے محسوس ہوا کہ میرا ٹیسٹ کرنے والے میرے بولنگ ایکشن سےخوش تھے۔ میں پرامید ہوں، لیکن آخری فیصلہ تو انھیں کا ہوگا۔‘

گزشتہ برس سری لنکا کے خلاف گال میں کھیلےگئے ٹیسٹ میچ کے امپائروں نے سعید اجمل کے مشکوک بولنگ ایکشن کے بارے میں رپورٹ دی تھی۔

اس کے بعد آئی سی سی نے انہیں بولنگ ایکشن کے تجزیے کے لیے برسبین بھیجا تھا جس کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سعید اجمل تقریباً چالیس ڈگری پر بولنگ کررہے ہیں جبکہ آئی سی سی کی مقرر کردہ حد پندرہ ڈگری ہے اس کے بعد سے سعید اجمل کو معطلی کا سامنا ہے۔

چینئی میں آئی سی سی کی شری رامچندرا سپورٹس میڈیسن سنٹر لیبارٹری میں ہونے والے بائیو مکینک ٹیسٹ کے بارے میں بتاتے ہوئے سعید اجمل نے کہا کہ انھوں نے ٹیسٹ کے دوران تیس گیندیں کیں ہیں۔ اور ہر دفعہ انھوں نے پانچ مختلف گیندیں کیں جن میں دوسرا، کیرم بال، آف سپنر، سیم اپ، اور تیز گیند، شامل تھیں۔

سعید اجمل کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں وہ اب ’دوسرا‘ گیند کو بھی مقررہ کے اندر کر رہے ہیں۔ ’اگر میں صرف آف سپن بولنگ کرنا چاہتا تو میں صرف دو ہفتے کے اندر اپنا ایکشن کلیئر کروا لیتا۔ لیکن میں اپنی تنوع کو برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب میرا دوسرا [گیند] مقررہ حدود کے اندر ہے ‘

سعید اجمل نے مزید کہا:’اگر وہ [بولنگ کا ٹیسٹ کرنے والے] میری ’دوسرا گیند سے خوش نہیں بھی ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ میں آف سپن اور دوسری گیندوں سے موثر بولنگ کر سکتا ہوں۔‘

اپنے بولنگ ایکشن میں تبدیلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سعید اجمل نے کہا کہ ’پہلے میرا بازو میرے جسم کے پیچھے سے آتا تھا۔ اب یہ سائڈ سے آ رہا ہے۔ پہلے میرا اگلا پاؤں ہوا میں ہوتا تھا جب گیند کو ریلیز کرنے والے ہوتا تھا لیکن اب میرا پاؤں زمین پر ہوتا ہے۔ پہلے میں گیند کو ریلز کرتے ہوئے اوپر کی طرف دیکھ رہا ہوتا تھا لیکن اب میں بیٹسمین کو دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ پہلے میرا ایکشن کھلے سینے والا تھا لیکن اب سائڈ آرم ہے۔‘

اسی بارے میں