’عامر کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی فاسٹ ٹریک پر نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption محمد عامر پر پابندی اس برس دو ستمبر کو ختم ہونا تھی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار نے تردید کی ہے کہ محمد عامر کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے معاملے کو تیزی سے نمٹانے کے لیے کسی ’فاسٹ ٹریک‘ کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے کہا کہ عامر خان کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی سے قبل عامر کے ’میدان کے اندر اور میدان سے باہر‘ رویے کا جائزہ لیا جاتا رہے گا۔

واضح رہے کہ پانچ سال کی پابندی عائد کیے جانے کے بعد گذشتہ جمعرات کو کرکٹ کے عالمی ادارے آئی سی سی نے 22 سالہ محمد عامر کو اندرون ملک میچوں میں کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔

مبصرین آئی سی سی کے اس اقدام کو گذشتہ برسوں کے دنیائے کرکٹ کے سب سے بڑے سکینڈل کے خاتمے کی جانب ایک قدم قرار دیتے ہیں جس کے بعد محمد عامر بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے مرحلے کے قریب تر ہو گئے ہیں۔

محمد عامر کو سنہ 2010 میں برطانیہ اور پاکستان کے مابین سیریز میں دانستہ نو بال کرانے کا مرتکب پائے جانے کے بعد کپتان سلمان بٹ اور محمد آصف کے ہمراہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد تینوں پاکستانی کھلاڑیوں کو برطانیہ میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

محمد عامر پر پابندی اس برس دو ستمبر کو ختم ہونا تھی، تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انھیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عامر نے اپنے کردار پر سلمان بٹ اور محمد آصف کی نسبت زیادہ پشیمانی کا اظہار کیا ہے: شہریار خان

تاہم سنیچر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کراچی میں ان خبروں کی تردید کر دی کہ محمد عامر کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے عمل کو تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔

شہریار خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے اب محمد عامر کو اپنا آپ منوانا پڑے گا۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہم نے پابندی ختم ہونے سے پہلے اور بعد میں عامر کی واپسی کو فاسٹ ٹریک کیا ہے۔۔۔ (لیکن ایسا نہیں ہے) بلکہ محمد عامر کے رویے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘

’بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے لیے محمد عامر کو پی سی بی اور آئی سی سی کی اینٹی کرپشن کمیٹی کو اپنے رویے سے مطمئن کرنا ہوگا۔‘

شہریار خان کا کہنا تھا کہ ’محمد عامر کے معاملے میں نرمی دکھائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اس سکینڈل میں اپنے کردار پر سلمان بٹ اور محمد آصف کی نسبت زیادہ پشیمانی کا اظہار کیا ہے۔

’عامر نے کہا تھا کہ وہ قصور وار ہیں اور اس کے علاوہ وہ گذشتہ چار برسوں میں مسلسل کہتے رہے کہ کہ وہ اپنے کیے پر نادم ہیں۔اس کے برعکس دوسرے دونوں کھلاڑیوں نے ایسا نہیں کیا۔‘

اس کے علاوہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا یہ بھی کہنا تھا کہ بورڈ گذشتہ ماہ کینیا کی ٹیم کے پاکستان کے دورے سے ہونے والے آغاز سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر ممالک کی ٹیموں کو بھی پاکستان بلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کرکٹ بورڈ کے ذمہ داران اس سلسلے میں ہالینڈ، نیپال، نمیبیا، سری لنکا، بنگلہ دیش اور زمبابوے کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

’ان ممالک نے اپنی جونیئر ٹیمیں بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ ٹیموں کو پاکستان لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں