’وہ فٹبال کا میدان نہیں، میدانِ جنگ لگ رہا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گڑبڑ پہلے ہاف کے اختتام پر شروع ہوئی جب گھانا کو دو صفر کی سبقت حاصل تھی۔

گھانا کی فٹبال ایسوسی ایشن نے افریقی کپ آف نیشنز فٹبال ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں گڑبڑ کے بعد کہا ہے کہ اس میچ میں فٹبال کا میدان ایک ’میدانِ جنگ‘ کا منظر پیش کر رہا تھا۔

گھانا اور استوائی گنی کے مابین جمعرات کی شب کھیلے جانے والے میچ میں تماشائیوں کے پرتشدد رویے کی وجہ سے کھیل 30 منٹ تک رکا رہا تھا۔

اس گڑبڑ کے دوران تماشائیوں نے کھلاڑیوں پر بوتلیں پھینکیں اور گھانا کے حامی تماشائیوں نے اپنے تحفظ کے لیے ایک گول کے پیچھے پناہ لی۔

پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے نہ صرف آشک آور گیس استعمال کی بلکہ فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹر بھی طلب کر لیا گیا۔

گھانا فٹبال ایسوسی ایشن نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’یہ ایک میدانِ جنگ جیسا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پولیس گھانا کے کھلاڑیوں کے گرد حصار قائم کر کے انھیں میدان سے باہر لے گئی۔

فٹبال ایسوسی ایشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ سٹیڈیم کے اندر ’بلا اشتعال پرتشدد حملے‘ کیے گئے اور ’وحشیانہ انداز میں توڑپھوڑ‘ بھی ہوئی۔

جب نصف گھنٹے کے تعطل کے بعد کھیل دوبارہ شروع ہوا تو گھانا نے یہ میچ صفر کے مقابلے میں تین گول سے جیت لیا اور اتوار کو فائنل میں اس کا مقابلہ آئیوری کوسٹ سے ہوگا جس نے پہلے سیمی فائنل میں جمہوریہ کانگو کو شکست دی تھی۔

جمعرات کو دوسرے سیمی فائنل میں گڑبڑ پہلے ہاف کے اختتام پر شروع ہوئی جب گھانا کو دو صفر کی سبقت حاصل تھی۔

ہاف ٹائم پر استوائی گنی کے حامیوں نے گھانا کے کھلاڑیوں کو بوتلوں سے نشانہ بنایا جس کے بعد پولیس ان کے گرد حصار قائم کر کے انھیں میدان سے باہر لے گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹر بھی طلب کیا۔

میچ ختم ہونے سے آٹھ منٹ قبل کھیل اس وقت پھر متاثر ہوا جب گھانا کے حامی مخالفین کے حملوں سے بچنے کے لیے میدان میں اتر آئے اور گول کے عقب میں پناہ لی۔

اس پر کنفیڈریشن آف افریقن فٹبال کے حکام نے سٹیڈیم میں اعلانات کیے کہ اگر تماشائیوں نے گھانا کے کھلاڑیوں پر حملے بند نہ کیے تو یہ میچ ختم کر دیا جائے گا۔

بعدازاں پولیس نے بیشتر تماشائیوں کو سٹیڈیم سے باہر نکال دیا اور جبھی آخری تین منٹ کا کھیل ممکن ہو سکا۔