سلمان، آصف کے بیانات مسترد، ’دونوں اب بھی سچ بولنے سے گریزاں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سلمان بٹ اپنی پابندی کے فیصلے کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سپاٹ فکسنگ میں ملوث سابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف کے اعترافی بیانات مسترد کردیے ہیں جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ سپاٹ فکسنگ میں ملوث تیسرے کرکٹر محمد عامر پر عائد پانچ سالہ پابندی میں نرمی کرتے ہوئے آئی سی سی نے انھیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔

بی بی سی اردو سروس کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق محمد عامر کی سزا میں نرمی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ سلمان بٹ اور محمد آصف کی واپسی کی بھی خواہش رکھتا ہے اور اس نے اس ضمن میں آئی سی سی سے بھی بات کی تھی۔

تاہم آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا کہ چونکہ ان دونوں کرکٹرز نے اپنے کیے کی معافی نہیں مانگی ہے لہٰذا ان کی بحالی کا پروگرام شروع نہیں ہوسکتا۔ آئی سی سی نے اس سلسلے میں دونوں کرکٹرز سے براہ راست بات کرنے کے بارے میں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ وہ پہلے خود ان دونوں کرکٹرز سے بات کرے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے کہنے پر دونوں کرکٹرز نے پی سی بی کے سکیورٹی انچارج کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات ریکارڈ کرائے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ دونوں کرکٹرز اب بھی سچ بولنے سے گریز کررہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دونوں کرکٹرز کے ریکارڈ کیے ہوئے بیانات آئی سی سی کو بھی بھیجے تھے لیکن آئی سی سی بھی ان دونوں کرکٹرز کے اعتراف سے مطمئن نہیں اور اس نے غیررسمی طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ بتایا کہ دونوں کرکٹرز کے یہ اعترافی بیانات سچ پر مبنی نہیں ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سلمان بٹ اپنی پابندی کے فیصلے کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سلمان بٹ اپنی بحالی کے پروگرام میں تاخیر کا ذمہ دار پاکستان کرکٹ بورڈ کو قرار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں