کرکٹ ورلڈ کپ کے 10 چونکا دینے والے لمحات

سیاسی احتجاج، منشیات کے سکینڈل، قاتل کی تلاش اور غیر معمولی شکست سمیت کرکٹ ورلڈکپ نے شائقینِ کرکٹ کو میدان میں اور میدان سے باہر ہر طرح کی تفریح فراہم کی ہے۔ پڑھیے کرکٹ ورلڈ کپ کے دس ایسے لمحات جو ہمیشہ کے لیے ایک غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آئر لینڈ مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ میں حصہ لے رہا ہے۔

1: 2011 کے ورللڈ کپ میں انگلینڈ کو 327 کا بڑا سکور کرنے کے باوجود آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

انگلینڈ کی شکست میں کلب کرکٹر ’کیون اوبرائن‘ کی ورلڈ کپ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری جو انھوں نے 50 گیندوں پر بنائی نے کلیدی کردار ادا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنوبی افریقہ کی ٹیم اب تک ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے میں ناکام رہی ہے۔

2: نسلی عصبیت کی وجہ سے لگائی جا نے والی پابندی ختم ہونے کے بعد 1992 میں جنوبی افریقہ نے ورلڈ کپ میں پہلی بار شرکت کی اور سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

انگلینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے اس میچ میں جنوبی افریقہ کو جیت کے لیے 13 گیندوں پر 22 رنز درکار تھے لیکن 12 منٹ کے بارش کے وقفے کے بعد امپائروں نے جیت کے لیے ناممکن حدف دیا جو 1 گیند پر 22 رنز بنانا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption واقعے کے بعد فلنٹوف کو نائب کپتانی سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔

3: 2007 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے آل راؤنڈر فلنٹوف نشے کی حالت میں سمندر میں گر گئے تھے اور ان کو ہوٹل کے عملے نے پانی سے نکال کر کمرے تک پہنچایا تھا۔واقعے کے بعد فلنٹوف کو نائب کپتانی سے ہٹادیا گیا تھا اور ان پر ایک میچ کی پابندی بھی لگائی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 1983 کے ورلڈ کپ میں کپل دیو نے آٹھ میچوں میں 303 رنز بنائے، 12 وکٹیں حاصل کیں اور7 کیچ لیے۔

4: سابقہ دو ورلڈ کپ جیتنے والی اس دور کی غالب ٹیم ویسٹ انڈیز کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ 1983 کا ورلڈکپ بھی اپنے نام کر لے گی لیکن کپل دیو کے ایک کیچ نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔

بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل میں ویوین رچرڈز کی ایک مس ٹائمڈ اونچی شاٹ جس پر وہ کپل دیو کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے ویسٹ انڈیز کی شکست کا باعث بنی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وارن نے ٹیسٹ میچوں میں 708 اور ایک روزہ میچوں میں 293 وکٹیں حاصل کیں۔

5: ایک دہائی قبل ’صدی کی بہترین گیند‘ پر مائیک گیٹنگ کو آؤٹ کر کے دنیا بھر میں شائقین کی توجہ حاصل کرنے والے آسڑیلیا کے مایہ ناز لیگ سپنر شین وارن کو منشیات کا ٹیسٹ فیل ہونے کی وجہ سے 2003 میں ورلڈکپ شروع ہونے سے ایک رات قبل جنوبی افریقہ سے واپس بھیجوا دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption باب وولمر نے انگلینڈ کے لیے 19 ٹیسٹ میچز کھیلے اور پاکستان کے کوچ بننے سے پہلے وہ جنوبی افریقہ کے کوچ تھے۔

6: ویسٹ انڈیز میں ہونے والے 2007 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے کوچ باب وولمر کی اچانک موت کی وجہ سے کرکٹ ورلڈ کپ ایک بار پھر دنیا بھر میں خبروں کی زینت بنا۔

آئرلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی غیر متوقع شکست کے اگلے روز باب وولمر ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ پاکستانی کھلاڑیوں سمیت دیگر افراد پر ان کے قتل کا شبہ ظاہر کیا گیا لیکن تین ماہ کی تحقیقات کے بعد جمیکن پولیس نے اعلان کیا کہ وولمر کی موت طبعی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آسٹریلیا 1999، 2003 اور 2007 میں ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم تھی۔

7: 1999 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ایک بار پھر قسمت نے جنوبی افریقہ کا ساتھ نہیں دیا اور ان کے بارے میں یہ تاثر کہ وہ بڑے میچوں میں دباؤ میں آ جا تے ہیں ابھر کر سامنے آیا۔

جنوبی افریقہ کو آسٹریلیا سے میچ جیتنے کے لیے آخری اوور میں 9 رنز درکار تھے اور اس کی ایک وکٹ باقی تھی، پہلی دو گیندوں پر مسلسل چوکے لگا کر لانس کلوزنر نے میچ برابر کر دیا لیکن اگلی گیند پر وہ ایک غلط رن لیتے ہوئے رن آؤٹ ہو گئے اور آسٹریلیا بہتر رن اوسط کی وجہ سے فائنل میں پہنچ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اولنگانے 2003 کے ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ میں سکونت اختیار کرلی۔

8: زمبابوے کے کامیاب ترین کھلاڑی اینڈی فلاور اور ملک کے پہلے سیاہ فام کرکٹر ہینری اولنگا نے 2003 کے ورلڈ کپ میں ہرارے میں ہونے والے پہلا میچ اپنی حکومت کی غیر جمہوری پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر کھیلا۔

جس کی وجہ سے ان کو ٹیم سے نکال دیا گیا اور دونوں کھلاڑی اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور انھیں برطانیہ میں سکونت اختیار کرنی پڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سری لنکا نے گزشتہ دو کرکٹ ورلڈ کپ میں فائنل تک رسائی حاصل کی۔

9: 1996 کے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کی جانب سے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سری لنکا میں گروپ میچ نہ کھیلنے کی وجہ سے سری لنکا کو فائنل تک پہنچنے میں مدد ملی۔

فائنل میں سری لنکا نے آسٹریلیا کو ہرا کر ایک بڑا اپ سیٹ کیا اور ورلڈ کپ اپنے نام کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیووراک اپنے ملک کے فٹ بال کلب زیبراز کی طرف سے انگلینڈ میں ہل سٹی کے خلاف فٹ بال میچ بھی کھیل چکے ہیں۔

10: 2007 کے ورلڈ کپ میں برمودا کے کھلاڑی لیووراک جو پیشے کے اعتبار سے جیل افسر ہیں اور کا فی موٹے ہیں نے شائقینِ کرکٹ کو اس وقت حیرت میں ڈالدیا جب انھوں نے اپنے بھاری بھرکم وجود کو دائیں طرف اچھال کر ایک ہاتھ سے کیچ پکڑ کر انڈیا کے رابن اتھپا کو آؤٹ کر دیا۔

اسی بارے میں