افغانستان کی خواتین سائیکل سوار ٹیم

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption خواتین کی یہ سائیکلنگ ٹیم ہفتے میں تین دن مشق کرتی ہے

شاید دنیا کی سب سے غیر متوقع کھلاڑی ٹیم افغانستان کی خواتین سائیکل سواروں کی ہے جو کابل کے شمال میں واقع میدانی علاقے میں غیر استعمال شدہ سڑکوں پر ہفتے میں تین دن مشق کرتی ہیں۔

یہ خواتین اپنی سائیکلیں اٹھا کر افغانستان کے واحد پیشہ ور سائیکلنگ کھلاڑی عبدالصادق کے مکان سے نکل کر ایک کچی گلی میں کھلی نالیوں کے پاس سے ہوتی ہوئی گزرتی ہیں۔

صادق نے اس کام کی ابتدا اپنی بیٹی کی تربیت سے کی اور جب اس نے بیرونِ ملک جا کر اپنی تربیت مکمل کر لی تو انہوں نے اس سائیکلنگ ٹیم کی تشکیل دی۔

ان کی نمائندہ مریم مرجان مختلف سکولوں میں جا کر ایسی لڑکیوں کو تلاش کرتی ہیں جو ٹیم میں شامل ہونا چاہیں۔

تاہم طالبان حکومت کے 2001 میں اختتام پزیر ہونے کے باوجود آج بھی انہیں نئے کھلاڑیوں کو تلاش کرنے میں کافی دقت پیش آتی ہے۔

لیکن اس کی وجہ لڑکیوں میں شوق کی کمی نہیں۔

در حقیقت یہ کھیل ِاس ملک میں رائج ان روایات کو توڑتا ہے جہاں معاشرے میں اکثر خواتین کو محرم کے بغیر گھر سے نکلنے کی اجازت تک نہیں ہوتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مریم مرجان مختلف سکولوں میں جا کر ایسی لڑکیوں کو تلاش کرتی ہیں جو ٹیم میں شامل ہونا چاہیں

اافغان خاندان کافی بڑے ہوتے ہیں۔ مریم مرجان کہتی ہیں کہ: ’اگر لڑکیوں کو ان کا والد نہ بھی روکے تو کوئی بھائی یا چچا روک دیتا ہے۔ انہیں ہر وقت کسے نہ کسی کو رضامند کرنا پڑتا ہے‘۔

ٹیم میں دو بہنیں، اٹھارہ سالہ معصومہ اور سترہ سالہ ذراب بھی شامل ہیں۔ ان کے والد اور بھائی ان کی ٹیم میں شمولیت پر راضی ہیں لیکن ذراب کا کہنا ہے کہ ان کے چچا ان کے والد سے شکایات کرتے ہیں۔

ذراب کہتی ہیں:’وہ ہمارے سامنے آ کر کبھی نہیں پوچھیں گے کہ ہم سائیکل کیوں چلاتی ہیں لیکن ہمارے والد کو وہ برا بھلا کہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption خواتین اپنی سائیکلیں اٹھا کر افغانستان کے واحد پیشہ ور سائیکلنگ کھلاڑی عبدل صادق کے مکان سے نکل کر ایک کچی گلی میں کھلی نالیوں کے پاس سے ہوتی ہوئی گزرتی ہیں

ٹیم کے بانی اور ہیڈ کوچ صادق کو اکثر دھمکیاں ملتی رہتی ہیں اور کچھ ہی عرصہ پہلے انہیں زد و کوب بھی کیا گیا۔

لیکن ان لڑکیوں کو ایک اور دن کی مشق پر جانے کے لیے عبدالصادق کی گاڑی پر اپنی سائیکلیں لوڈ کرتے ہوئے دیکھ کر گلی میں کھڑے مردوں کو کہنا تھا کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ کھیل ِاس ملک میں رائج ان روایات کو توڑتا ہے جہاں معاشرے میں اکثر خواتین کو محرم کے بغیر گھر سے نکلنے کی اجازت تک نہیں ہوتی

ان کی سائیکلیں اس معیار کی نہیں جو اس کھیل کے عالمی کھلاڑی استعمال کرتے ہیں اور صادق مانتے ہیں کہ ابھی ان کی ٹیم عالمی مقابلوں میں حصہ لینے سے بہت دور ہے۔

تاہم ان کی ٹیم نے علاقائی مقابلوں میں حصہ لیا ہے اور بنگلادیش اور پاکستان کے خلاف جیتے بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ان کی سائیکلیں اس معیار کی نہیں جو اس کھیل کے عالمی کھلاڑی استعمال کرتے ہیں اور عبدل صادق مانتے ہیں کہ ابھی ان کی ٹیم عالمی مقابلوں میں حصہ لینے سے بہت دور ہے

عبدل صادق کو درپیش ایک بڑا مسئلہ کھلاڑیوں کو ٹیم میں دیر تک رکھنے کا بھی ہے کیونکہ افغانستان میں زیادہ تر لوگوں کی شادی بیس سال کی عمر تک ہو جاتی ہے اور پھر کھلاڑی ٹیم کو چھوڑ دیتے ہیں۔

تاہم نئے کھلاڑی مشقوں کے دوران ٹیم میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور لہراتے، ڈانواں ڈول ہوتے سائیکل چلانا سیکھتے ہیں۔

ٹیم کی نئی کھلاڑی سولہ سالہ ژیلہ کہتی ہیں:’ہم اس لیے سائیکل چلانا چاہتی ہیں کہ ایک دن ہم ہیرو بن سکیں‘۔

رواں سال خشک سردی کے موسم میں ان کی مشقیں بغیر کسی تعطل کے جاری ہیں اور موسمِ بہار میں یہ لڑکیاں پہاڑوں پر مشق کے لیے جائیں گی۔

ٹیم کی نائب کوچ مریم مرجان کہتی ہیں:’ہمار ماننا ہے کہ خواتین کو گھر میں نہیں بیٹھے رہنا چاہیے۔ انہیں باہر نکل کر کھیلوں میں حصہ لینا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ان کی ٹیم نے علاقائی مقابلوں میں حصہ لیا ہے اور بنگلادیش اور پاکستان کے خلاف جیتے بھی ہیں

اور اٹھارہ سالہ زینب کی خواہش ہے کہ وہ گلی میں بغیر کسے مزاحمت کے اکیلی سائیکل چلا سکیں۔

زینب کا کہنا ہے:’میری خواہش ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ ایک دن لڑکیوں کو بغیر کوچ یا کسی اور کے تنہا اور کسی مسئلے کے بغیر سڑکوں پر سائیکل چلانے کی اجازت ہو گی۔‘

اسی بارے میں