پانچ بلےباز جن کے گرد ورلڈ کپ گھومے گا

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلے جانے والے کرکٹ ورلڈ کپ میں پانچ نمایاں بلے باز جن سے بےپناہ امیدیں وابستہ ہیں۔

وراٹ کوہلی (بھارت)

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وراٹ کوہلی نے تسلسل سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر کے سچن تندولکر کی کمی محسوس نہیں ہونے دی

وراٹ کوہلی مبصرین اور ماہرین کے نزدیک عصرحاضر کے بہترین بیٹسمین ہیں۔

انھیں یہ سند دیے جانے کی بنیادی وجہ تینوں فارمیٹس میں ان کی یکساں مہارت سے بیٹنگ اور سب سے بڑھ کر بھارت سے باہر میدانوں میں غیرمعمولی کارکردگی ہے۔

مہندر سنگھ دھونی کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ٹیسٹ کپتان بھی بن چکے ہیں اور وقتا فوقتاً ملنے والی ون ڈے کی کپتانی دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مستقبل کے ون ڈے کپتان بھی وہی ہیں۔

بولر جو ورلڈ کپ کا رخ بدل سکتے ہیں

سچن تندولکر کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھارتی بیٹنگ کو جس مضبوط سہارے کی ضرورت تھی وہ اسے وراٹ کوہلی کی شکل میں مل چکا ہے۔

سچن تندولکر کی طرح وراٹ کوہلی کے اعداد و شمار بھی دور سے جگمگاتے نظر آجاتے ہیں، بلکہ چند ریکارڈ تو ایسے بھی ہیں جن میں کوہلی سچن سے بھی آگے دکھائی دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مبصرین اور ماہرین کا یہ خیال ہے کہ سچن تندولکر کے ریکارڈ مستقبل میں اگر کسی کے نام منتقل ہوئے تو وہ کوہلی ہی ہوں گے۔

وراٹ کوہلی کی بیٹنگ کی سب سے اہم بات ان کا انہماک اور بڑے دل کے ساتھ کھیلتے ہوئے حریف بولروں پر حاوی ہونا ہے۔

فیلڈ میں شدت کے ساتھ اپنےجذبات کے اظہار کرنے کے انداز پر وہ بہت سے لوگوں کے نزدیک مغرور اور خود سر بھی سمجھے جاتے ہیں لیکن مزاج کے اسی جاحانہ پن نے انھیں کامیاب بیٹسمین بھی بناکر رکھا ہوا ہے۔

کوہلی نے ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں 21 سنچریاں بنائی ہیں جن میں سے 19 میں بھارتی ٹیم جیتی ہے اور ان 19 میں سے 13 سنچریاں انھوں نے دوسری بیٹنگ میں سکور کی ہیں اور بھارتی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کوہلی کی مستقل مزاجی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ گذشتہ چار سال سے مسلسل ون ڈے انٹرنیشنل میں کیلنڈر ایئر میں ہزار سے زائد رنز بناتے آ رہے ہیں۔

وراٹ کوہلی عالمی کپ میں بھارتی بیٹنگ کی سب سے بڑی امید ہیں۔ خاص کر آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں چار سنچریوں کی شاندار کارکردگی کے بعد ان سے وابستہ توقعات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔

سٹیون سمتھ (آسٹریلیا)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سٹیون سمتھ دیکھتے ہی دیکھتے آسٹریلوی بیٹنگ کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں

سٹیون سمتھ نے اپنے بین الاقوامی کریئر کی ابتدا لیگ سپنر کی حیثیت سے کی تھی لیکن اب وہ اپنی بولنگ کے بجائے بیٹنگ کی وجہ سے پہچانے جارہے ہیں۔

آج انھیں آسٹریلوی بیٹنگ لائن کے سب سے قابل اعتماد بیٹسمین کا درجہ حاصل ہو چکا ہے جو قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے بھی پوری طرح تیار ہو چکا ہے۔

مائیکل کلارک کی فٹنس نے ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان ڈال رکھا ہے لیکن سلیکٹروں کو اس بات کا اطمینان ضرور ہے کہ انھیں سمتھ کی شکل میں قابل بھروسہ کپتان بھی مل چکا ہے۔

آسٹریلوی سلیکٹر یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ اگر مائیکل کلارک فٹ نہ ہوئے تو سمتھ عالمی کپ میں آسٹریلوی ٹیم کی قیادت کریں گے۔

سٹیون سمتھ کے لیے پچھلے چند ماہ انتہائی شاندار رہے ہیں۔

پاکستان کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ سیریز میں دو نصف سنچریاں سکور کرنے کے بعد سمتھ نے بھارت کے خلاف چار ٹیسٹ میچوں میں اپنی زندگی کی سب سے یادگار پرفارمنس دے ڈالی۔ انھوں نے چار سنچریاں اور دو نصف سنچریاں بناتے ہوئے 769 رنز بناڈالے جو آسٹریلیا بھارت ٹیسٹ سیریز میں کسی بھی بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز ہیں۔

سمتھ محدود اووروں کی کرکٹ میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز میں انھوں نے شارجہ میں سنچری اور ابوظہبی میں نصف سنچری سکور کی اور پھر جنوبی افریقی بولنگ کے خلاف چار ون ڈے میچوں میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں سکور کر ڈالیں۔

رنز بنانے کا یہ سلسلہ سہ فریقی ون ڈے سیریز میں بھی جاری رہا جس میں انھوں نے انگلینڈ کے خلاف 304 کے ہدف کو ناقابل شکست سنچری سے حاصل کر لیا۔

آسٹریلوی بیٹنگ لائن اپ میں وارنر، فنچ اور میکسویل جیسے جارحانہ انداز میں کھیلنے والے بیٹسمین موجود ہیں، لیکن مبصرین عالمی کپ میں اسمتھ کے کردار کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں جنھیں ذمہ داری کے ساتھ صورت حال کے مطابق کھیلنا آتا ہے اور اس وقت ان کی عمدہ فارم آسٹریلوی ٹیم کے حوصلے بلند کیے ہوئے ہے۔

اے بی ڈی ویلیئرز (جنوبی افریقہ)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس وقت عالمی کرکٹ میں اے بی ڈیولیئرز جیسا ہر فن مولا کھلاڑی ڈھونڈے سے نہیں ملے گا

اے بی ڈی ویلیئرز نے ویسٹ انڈیز کے خلاف صرف 31 گیندوں پر ون ڈے انٹرنیشنل کی تیز ترین سنچری سکور کر کے عالمی کپ کے سب سے قابل توجہ بیٹسمین کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔

اگر وہ یہ کارنامہ انجام نہ بھی دیتے تب بھی یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اے بی ڈی ویلیئرز بیٹنگ کا وہ بارود ہیں جو کسی بھی بولنگ لائن کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتا ہے۔

وہ گذشتہ چھ سال سے ون ڈے انٹرنیشنل میں 50 کی اوسط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

اے بی ڈی ویلیئرز عصرحاضر کے ان چند بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں جو تینوں فارمیٹس میں یکساں مہارت سے بیٹنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

بیٹنگ کے ساتھ ساتھ وکٹ کیپنگ میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور جب وہ فیلڈر کی حیثیت سے میدان میں ہوتے ہیں تو شائقین کو ان کی جانب سے جونٹی روڈز کی طرح ہوا میں لہراتے ہوئے رن آؤٹ کرنا بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔

قیادت کی ذمہ داری نے اے بی ڈی ویلیئرز کی بیٹنگ کو کسی طور متاثر نہیں کیا ہے۔

اے بی ڈی ویلیئرز سری لنکا کے کمار سنگاکارا کے علاوہ دوسرے ایسے بیٹسمین ہیں جو عالمی رینکنگ میں مستقل مزاجی کے ساتھ نمایاں نظر آتے ہیں۔

وہ ون ڈے کی عالمی رینکنگ میں پہلے اور ٹیسٹ رینکنگ میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

اے بی ڈی ویلیئرز کا یہ تیسرا عالمی کپ ہے۔ 2007 کے عالمی کپ میں اے بی ڈی ویلیئرز نے اگرچہ 146، 92 اور 62 رنز کی تین عمدہ اننگز کھیلیں لیکن چار میچوں میں صفر کی خفت نے سارا مزا کرکرا کر دیا۔

2011 کے عالمی کپ میں ڈی ویلیئرز نے ویسٹ انڈیز اور ہالینڈ کے خلاف سنچریاں بنائیں اور پھر بھارت کے خلاف صرف 39 گیندوں پر 52 رنز کی عمدہ اننگز نے جنوبی افریقہ کی ڈرامائی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

اے بی ڈی ویلیئرز اپنی بیٹنگ سے میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت ضرور رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس بھی ایسا کوئی گر موجود نہیں جو جنوبی افریقہ پر سے چوکر کا لیبل ہٹا سکے۔

کین ولیم سن (نیوزی لینڈ)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کین ولیم سن تینوں فارمیٹس میں غیر معمولی مستقل مزاجی سے سکور کر رہے ہیں

کین ولیم سن کی حالیہ شاندار بیٹنگ پرفارمنس نے کپتان برینڈن مک کلم کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ولیم سن آنے والے دنوں میں خود کو نیوزی لینڈ کی تاریخ کا بہترین بیٹسمین ثابت کر سکتے ہیں۔

مک کلم نے کہا کہ ولیم سن کی عمر صرف 24 سال ہے لیکن ان میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے اور وہ صرف ٹیم کے بارے میں سوچتے ہیں کہ اس کے لیے اپنا کردار کس طرح ادا کریں۔ آنے والے برسوں میں ہم ان کی جانب سے بہت کچھ دیکھیں گے۔

صرف مک کلم ہی نہیں بلکہ کرکٹ کے دیگر ماہرین اور مبصرین بھی ولیم سن کو اس وقت ایک ایسے بیٹسمین کے طور پر دیکھ رہے ہیں جنھوں نے نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن کو اپنی ذمہ دارانہ بیٹنگ سے خاصا مستحکم کیا ہے اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی نیوزی لینڈ کی مڈل آرڈر انہی کے گرد گھومے گی۔

2014 بلاشبہ ولیم سن کے کریئر کا یادگار سال رہا جس میں انھوں نے مستقل مزاجی سے کھیلتے ہوئے تینوں فارمیٹ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

گذشتہ سال انہوں نے ٹیسٹ میچوں میں نو سو سے زائد رنز سکور کیے جن میں چار سنچریاں اور تین نصف سنچریاں شامل تھیں۔

ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں وہ 12 مہینے رنز بناتے رہے اور سال کا اختتام ایک سنچری اور سات نصف سنچریوں کی مدد سے 770 رنز پر کیا جن میں پانچ مسلسل اننگز میں نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔

ولیم سن نے گذشتہ سال تینوں فارمیٹس میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 1933 رنز سکور کیے۔

نیوزی لینڈ نے ولیم سن میں قائدانہ صلاحیتیں بھی بھانپ لی ہیں یہی وجہ ہے کہ انھیں ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے انٹرنیشنل میں کپتانی کا موقع دیا جا چکا ہے۔

گذشتہ سال برینڈن مک کلم کی غیرموجودگی میں انھوں نے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز میں کپتانی کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو تین دو کی جیت سے ہمکنار کیا۔

اس سیریز میں ولیم سن کی بیٹنگ بھی زوروں پر رہی اور انھوں نے 123، 97 اور 70 ناٹ آؤٹ جیسی اہم اننگز کھیلیں۔

ولیم سن نے سری لنکا کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کے ویلنگٹن ٹیسٹ میں ناقابل شکست ڈبل سنچری اور پھر ون ڈے سیریز کے چوتھے میچ میں میچ وننگ سنچری اور چھٹے میچ میں 97 رنز بنا کر ورلڈ کپ کے قابل توجہ بیٹسمینوں میں خود کو شامل کرا لیا ہے۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کے اپنے تمام گروپ میچ اپنے ہوم گراؤنڈز پر کھیلے گی اور کین ولیم سن کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ حریف بولروں کو کس طرح بے بس کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی اپنے میدانوں میں۔

کمار سنگا کارا (سری لنکا)

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنگاکارا کا شمار دنیائے کرکٹ سے سب سے قابلِ اعتماد بلےبازوں میں ہوتا ہے

کسی بھی ٹیم کے لیے اس سے زیادہ خوش قسمتی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ کسی ورلڈ کلاس کرکٹر کا خلا پر کرنے کے لیے اس کے پاس باصلاحیت کھلاڑی موجود ہو۔

ارجنا رانا ٹنگا اور اروندا ڈی سلوا جب سری لنکن ٹیم سے رخصت ہو رہے تھے تو ذمہ داری کا احساس کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے کو منتقل ہو چکا تھا اور اس وقت سے یہ دونوں یہ ذمہ داری بخوبی نبھاتے چلے آ رہے ہیں۔

مہیلاجے وردھنے ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے اور ورلڈ کپ کے بعد وہ ون ڈے انٹرنیشنل کو بھی خیرباد کہہ دیں گے۔ سنگاکارا نے بھی اپنے دیرینہ دوست کی طرح کچھ اسی طرح کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، تاہم نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اپنے کریئر کی 11ویں ڈبل سنچری سکور کرنے کے بعد ان کے ارادے تبدیل ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں جس کا بڑا انحصار ورلڈ کپ میں ان کی کارکردگی پر ہو گا۔

کسی بھی دوسری ٹیم کی طرح سری لنکا بھی ورلڈ کپ میں اپنے دو تین ہی اہم کھلاڑیوں پر بھروسہ کر رہی ہے اور ان کھلاڑیوں میں سنگاکارا قابل ذکر ہیں۔

سنگاکارا کی مستقل مزاجی سے رنز کرنے کی عادت اور بڑی اننگز کھیلنے کی چاہ نے انھیں عصر حاضر کے چند کامیاب بیٹسمینوں میں جگہ دے رکھی ہے۔ وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے سری لنکن بیٹسمین بھی بن چکے ہیں۔

وہ 2011 میں آئی سی سی کے بہترین ون ڈے کرکٹر قرار پائے۔ 2012 میں انھوں نے آئی سی سی کے بہترین کرکٹر اور بہترین ٹیسٹ کرکٹر کے ایوارڈ حاصل کیے اور 2013 میں انھیں آئی سی سی کےبہترین ون ڈے کرکٹر کا ایوارڈ ملا۔

کمارسنگاکارا ان کرکٹروں میں شامل ہیں جو میدان سے باہر بھی احترام کی نظر سے دیکھے جاتےہیں۔

2011 میں وہ لارڈز میں ایم سی سی سپرٹ آف کرکٹ کاوڈرے لیکچر دینے والے دنیا کے سب سے کمر کرکٹر بنے۔ سری لنکن کرکٹ میں بدانتظامی کے بارے میں ان کے لیکچر کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی لیکن سری لنکن حکومت کو یہ کڑوا سچ قطعاً پسند نہیں آیا تھا اور اس نے اس تقریر کی تحقیقات کا حکم دے دیا تھا۔

اسی بارے میں