’شوق کی تو کوئی قیمت نہیں ہوتی‘

Image caption رضوان صدیقی کہتے ہیں کہ ان کا کرکٹ کا جنون تین نسلوں پرمحیط ہے

لندن میں رہنے والے رضوان صدیقی کے لیے کرکٹ ہی سب کچھ ہے۔

سرکاری ملازمت میں ان کے لیے چھٹیاں لینا آسان نہیں ہے لیکن ورلڈ کپ آتے ہی وہ اپنے شوق کی تکمیل کا سامان پیدا کر ہی لیتے ہیں اور چھٹی لیتے ہی لندن چھوڑ کر چل پڑتے ہیں۔

یہ شوق انھیں جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا لے جا چکا ہے اور اب وہ آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں ہیں۔

میری رضوان صدیقی سے ملاقات دبئی سے ایڈیلیڈ کی فلائٹ میں ہوئی۔ ان کے ساتھ ان کے دوست صغیر احمد بھی تھے جو ایک کاروباری شخصیت ہیں۔

یہ دونوں دیرینہ دوست میلبرن میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کا میچ دیکھنے کے بعد ایڈیلیڈ میں پاکستان اور بھارت کے مابین ورلڈ کپ کے سب سے بڑے میچ کے ایک ایک لمحے سے لطف اٹھانے کے شدت سے منتظر ہیں جس کے بعد وہ دوبارہ برطانیہ لوٹ جائیں گے۔

رضوان صدیقی نے ایک سال قبل پاک بھارت میچ کا ٹکٹ انٹرنیٹ پر 35 برطانوی پاؤنڈ میں بک کروا لیا تھا تاہم لندن سے ایڈیلیڈ اور پھر واپسی کے لیے انھیں800 پاؤنڈ کا جہاز کا ٹکٹ خریدنا پڑا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔

رضوان صدیقی خود کلب کرکٹ کھیلتے رہے ہیں اور جس کلب سے وہ کھیلتے تھے اسی سے اوئن مورگن اور پوٹرفیلڈ بھی کھیلتے رہے ہیں۔

رضوان صدیقی کہتے ہیں کہ ان کا کرکٹ کا جنون تین نسلوں پرمحیط ہے۔

ان کے والد بھی کرکٹ کے شوقین رہے ہیں لیکن پاکستانی ٹیم کی ایک شکست سے مایوس ہوکر انھوں نے کرکٹ دیکھنا چھوڑ دیا تھا۔

رضوان کا بیٹا اب پاکستانی ٹیم کا زبردست مداح ہے اور وہ خود سعید اجمل کے انداز میں بولنگ بھی کرتا ہے۔

رضوان اور صغیر دبئی سے ایڈیلیڈ کی پرواز پر موجود کرکٹ کے اکیلے مداح نہیں تھے بلکہ میری ملاقات ایک اور کرکٹ پرستار سے بھی رہی جو بحرین میں رہتے ہیں اور اپنے سکاٹ لینڈ میں زیرِ تعلیم بیٹے کے ساتھ ایڈیلیڈ آئے ہیں۔

اسی بارے میں