اس ورلڈ کپ میں بڑا سکور کرنا چاہتا ہوں:یونس خان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونس کے خیال میں پاکستان اور بھارت کے پاس یکساں موقع ہے کہ وہ جیت سے ورلڈ کپ کی مہم کا آغاز کریں

’میں اس عالمی کپ میں بڑا سکور کرنا چاہتا ہوں اور میری کوشش ہوگی کہ اس بار عالمی کپ میں میری کارکردگی متاثر کن رہے۔‘

یہ کہنا ہے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار مڈل آرڈر بیٹسمین یونس خان کا جو چوتھی مرتبہ دنیائے کرکٹ کے سب سے بڑے مقابلے میں قومی ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ماضی میں یونس نے جو تین ورلڈ کپ کھیلے ہیں ان میں ان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی اور وہ 16 میچوں میں 306 رنز ہی بنا سکے جن میں صرف دو نصف سنچریاں شامل ہیں۔

تاہم اس مرتبہ وہ ایک نئے عزم کے ساتھ میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ جب یہ ورلڈ کپ ختم ہو تو سکور بورڈ پر ان کے ہی رنز نظر آئیں۔

یونس کا کہنا ہے کہ ’ماضی میں بھی جب میں مشکل صورت حال سے دوچار رہا ہوں اللہ نے میری مدد کی ہے۔‘

پاکستان اور بھارت کے میچ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس ورلڈ کپ میں ’پاکستان اور بھارت کے پاس یکساں موقع ہے کہ وہ جیت کر ورلڈ کپ کی مہم کا آغاز پراعتماد انداز سے کریں۔‘

پاکستانی ٹیم آج تک ورلڈ کپ مقابلوں میں بھارت کو شکست نہیں دے سکی اور یونس یہ روایت توڑنے کے بارے میں بھی پرامید ہیں۔

یونس نے کہا کہ ’چیزیں ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں، تو مجھے بھی امید ہے کہ اس مرتبہ ہم پہلی بار ورلڈ کپ میں بھارت کو ہرا سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ دونوں ٹیمیں متوازن دکھائی دیتی ہیں اور دونوں میں نوجوان کھلاڑی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ایسے بڑے میچوں میں ان نوجوان کرکٹروں پر ویسا پریشر نہیں ہوتا جو سینیئر کھلاڑیوں پر ہوتا ہے۔‘

یونس نے کہا کہ بڑے میچ میں اگر سینیئر کھلاڑی اچھی کارکردگی نہ دکھائیں تو انھیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خیال رہے کہ یونس خان سنہ 2000 سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ ہیں اور وہ ان چند بلے بازوں میں سے ہیں جنھوں نے تینوں فارمیٹس میں پاکستان کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔

سنہ 2009 کا ورلڈ ٹی 20 پاکستان نے انہی کی قیادت میں جیتا تھا جس کے اختتام پر یونس خان نے ٹی 20 کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں کسی دشواری کے بغیر ٹیم میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھے ہوئے ہیں لیکن ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کی کارکردگی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔

اسی بارے میں