کیا اس بار یہ جمود ٹوٹے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ورلڈ کپ آتا ہے اور چلا جاتا ہے لیکن یہ سوال چھوڑجاتا ہے کہ کیا کبھی پاکستان عالمی مقابلے میں بھارت کو ہرانے میں کامیاب ہو سکے گا ؟

پاکستانی شائقین کو اس سوال کا جواب 23 سال سے نفی میں ملتا رہا ہے اور اس بار بھی ان کے ذہنوں میں یہی سوال ہے کہ کیا اس بار یہ جمود ٹوٹے گا؟

پہلے چار عالمی کپ مقابلے ان روایتی حریفوں کے درمیان میچ کے بغیر گزرگئے لیکن جب یہ دونوں آمنے سامنے آئے تو ان میچوں نے شائقین کی غیر معمولی دلچسپی کی تمام حدیں پار کر لیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی کپ کی تاریخ میں پہلا میچ 1992 میں سڈنی میں کھیلا گیا جو بھارت نے 43 رنز سے جیتا۔

سچن تندولکر کے ناقابل شکست 54 رنز کی بدولت بھارت نے 49 اوورز میں 7 وکٹوں پر 216 رنز بنائے۔

پاکستانی ٹیم عامر سہیل کے 62 اور جاوید میانداد کے 40 رنز کے باوجود مشکلات سے دوچار رہی اور صرف 178 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

تاہم بھارت کے ہاتھوں ورلڈ کپ میں پہلی شکست کا داغ پاکستانی ٹیم نے یہ ٹورنامنٹ جیت کر دھو دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان اور بھارت عالمی کپ کی تاریخ میں پہلی بار 1992 کے ورلڈکپ میں سامنے آئے تھے

بنگلور میں شکست

1996 کے عالمی کپ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں بنگلور میں کھیلے گئے کوارٹر فائنل میں مدمقابل آئیں۔

اس میچ میں کپتان وسیم اکرم نے کندھے کی تکلیف کے سبب نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا یوں پاکستانی ٹیم عامر سہیل کی کپتانی میں میدان میں اتری۔

بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 8 وکٹوں پر 287 رنز اسکور کیے۔ نوجوت سنگھ سدھو سات رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ کر سکے۔

بھارتی اننگز کے آخر میں اجے جدیجہ نے چار چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 45 رنز بنائے جس میں وقار یونس خاص طور پر ان کی جارحیت کی زد میں آئے۔

Image caption پاکستان 1999 کے ورلڈکپ کے فائنل میں پہنچا مگر شکست کھا گیا

سعید انور اور عامر سہیل نے جارحانہ انداز میں ابتدا تو کی لیکن عامر سہیل کو پرساد سے الجھنا مہنگا پڑا اور اسی نتیجے میں انہوں نے اپنی وکٹ گنوائی۔

اس کے بعد مڈل آرڈر بیٹسمینوں کی غیرذمہ داری نے جیت کو پاکستانی ٹیم سے دور کر دیا اور آخر میں راشد لطیف کی کوششیں بھی بارآور ثابت نہ ہوسکیں۔

پرساد نے تین وکٹیں حاصل کرکے بھارت کی 39 رنز کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ جاوید میانداد کا آخری بین الاقوامی میچ بھی تھا۔ انہوں نے چھ عالمی کپ مقابلوں میں حصہ لیا اور ان کا یہ ریکارڈ سچن تندولکر نے برابر کیا۔

بیٹنگ دھوکہ دے گئی

1999 کے عالمی کپ میں پاکستان اور بھارت کا میچ سپر سکس مرحلے میں کھیلا گیا۔

مانچسٹر کے میدان اولڈ ٹریفرڈ میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان نے 47 رنز کی شکست کے ساتھ عالمی کپ میں بھارت سے ہارنے کی روایت برقرار رکھی۔

بھارت نے اس میچ میں راہول ڈراوڈ اور کپتان اظہرالدین کی نصف سنچریوں کی بدولت 6 وکٹوں پر 227 رنز بنائے ۔

پاکستانی بیٹنگ ایک بار پھر دھوکہ دے گئی اور پوری ٹیم صرف 180 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی جس میں سب سے بڑا اسکور 41 انضمام الحق کا تھا۔

وینکٹش پرساد نے گزشتہ عالمی کپ کی عمدہ کارکردگی کو اس بار بھی دوہراتے ہوئے پاکستانی بیٹنگ کو گہرے زخم لگائے۔ انہوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

Image caption سعید انور ورلڈکپ مقابلوں میں بھارت کے خلاف سنچری بنانے والے واحد پاکستانی بلے باز ہیں

بولرز کام نہ آ سکے

2003 کے عالمی کپ میں دونوں ملکوں کے جوشیلے شائقین کے سامنے بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کو مات دی۔

سنچورین میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سعید انور کی سنچری کی بدولت 7 وکٹوں پر 273 رنز بنائے۔

یہ ورلڈ کپ میں کسی بھی پاکستانی کی بھارت کے خلاف واحد سنچری ہے جبکہ بھارت کا کوئی بلے باز پاکستان کے خلاف ورلڈ کپ میں سنچری نہیں بنا سکا ہے۔

بلے بازوں کی اچھی کارکردگی کے بعد بات بولرز پر پائی لیکن وہ اس سکور کا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔

سچن تندولکر نے 98 رنز کی اننگز کے دوران وقار یونس اور شعیب اختر سے کوئی رعایت نہیں برتی اور رہی سہی کسر یوراج سنگھ کی ناقابل شکست نصف سنچری نے پوری کر دی۔

یوں بھارت نے 46 ویں اوور میں چار وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 2011 میں پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے بھارتی شہر موہالی میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم بھی موجود تھے ۔

وہی پرانی کہانی پھر دہرائی گئی

2011 کے عالمی کپ میں دونوں ٹیمیں سیمی فائنل میں مدمقابل آئیں۔

بھارتی شہر موہالی میں اس میچ کو دیکھنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم بھی موجود تھے ۔

بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم جیت کے قریب آ کر پھر دور ہوگئی۔

بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 9 وکٹوں پر 260 رنز بنائے اور سچن تندولکر 85 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے۔

پاکستان کی جانب سے وہاب ریاض نے پانچ وکٹیں حاصل کیں لیکن جواب میں پاکستانی ٹیم 231 رنز پر آؤٹ ہوکر 29 رنز سے میچ ہارگئی۔

مصباح الحق نے نصف سنچری سکور کی لیکن وہ میچ کو جیت پر ختم نہ کر سکے جبکہ تجربہ کار یونس خان نے صرف 13 رنز بنانے کے لیے 32 گیندیں کھیلیں۔

پاکستان کو سیمی فائنل میں شکست دینے کے بعد فائنل میں بھارت نے سری لنکا کو بھی ہرایا اور دوسری مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ایک ارب شائقین کا انتظار

اب ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت چھٹی مرتبہ پندرہ فروری کو ایڈیلیڈ میں مدمقابل ہونے والے ہیں اور ماضی کی طرح اس بار بھی شائقین نے اس میچ کے ایک ایک لمحے سے لطف اندوز کا پورا پورا بندوبست کر رکھا ہے۔

آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں یہ میچ دیکھنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہوگی۔

اس میچ کے عام ٹکٹ فروخت کے لیے پیش کیے جانے کے صرف بارہ منٹ میں ہی نظروں سے اوجھل ہوگئے تھے اور منتظمین کی جانب سے ایک ہی آواز آ رہی تھی ’سولڈ آؤٹ‘۔

اسی بارے میں