’آئندہ بھی 300 رنز بن سکتے ہیں، بلے باز تیار رہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جب کھلاڑیوں پر دباؤ نہیں ہوتا تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ اچھا کھیلیں:وقار یونس

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس نے ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف پہلے میچ کی شکست کا ذمہ دار خراب بیٹنگ کو قرار دیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنے والے میچوں میں بھی پاکستان کے خلاف 300 رنز بن سکتے ہیں اور ایسے ہدف کے تعاقب کے لیے بلے بازوں کو تیار رہنا ہوگا۔

کرکٹ ورلڈ کپ پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں اپنا اگلا میچ سنیچر کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیل رہی ہے۔

وقاریونس نے کرائسٹ چرچ کے ہیگلے اوول میں ٹیم کے تربیتی سیشن کے موقع پر بی بی سی اردو سروس سے بات چیت کے دوران کہا کہ کھلاڑیوں نے اپنے اوپر زیادہ دباؤ لے لیا اور ’بھارتی اننگز میں دو بڑی پارٹنرشپ ہوئیں جبکہ پاکستانی بیٹنگ کلک نہ کر سکی۔‘

وقاریونس نے کہا کہ آخری اوورز میں بولرز نے کم بیک کیا تھا اور بیٹسمینوں کو تین سو رنز بنانے چاہیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں تین سو رنز ایک معقول سکور ہے۔ آنے والے میچوں میں بھی پاکستانی ٹیم کے خلاف تین سو رنز بن سکتے ہیں لہذا بیٹسمینوں کو اس کا جواب دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔‘

وقاریونس نے کہا کہ وہ اپنی اس بات پر ابھی بھی قائم ہیں کہ پاکستانی ٹیم فیورٹ نہیں ہے اور انھوں نے پاکستان میں بھی یہ بات کھلاڑیوں پر سے غیرمعمولی دباؤ ہٹانے کی غرض سے کہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب کھلاڑیوں پر دباؤ نہیں ہوتا تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ اچھا کھیلیں۔‘

وقاریونس نے یونس خان کو اوپنر اور عمراکمل کو وکٹ کیپر کی حیثیت سے کھلانے کے بارے میں کہا کہ کنڈیشنز دیکھ کر تبدیلی کی جاتی ہے۔

’یونس خان کی اس وقت فارم نہیں ہے جس کی وجہ سے مسئلہ ہو رہا ہے ۔ یونس خان کو کسی طرح سے ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ چونکہ پچھلے چند میچوں میں اوپنرز کے جلد آؤٹ ہوجانے پر یونس خان کو ابتدا ہی میں بیٹنگ کے لیے آنا پڑرہا تھا لہذا انہیں اوپنر کھلایا گیا لیکن یہ تجربہ کامیاب نہ ہو سکا۔‘

وقاریونس نے کہا کہ کسی بھی سینیئر کھلاڑی کو ڈراپ کرنا مشکل نہیں ہے کیونکہ تمام کھلاڑی یکساں اہمیت رکھتے ہیں لیکن کوشش یہ کی جاتی ہے کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں تجربہ کار کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع دیے جائیں۔

پاکستانی ٹیم کے کوچ نے کہا کہ کھلاڑیوں پر سخت محنت کی جارہی ہے اور انہیں ہر میچ سے قبل حریف ٹیم کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں ویڈیوز کی مدد سے بتایا جاتا ہے اور کپتان کے ساتھ مل کر حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے ۔

’یہ فٹبال نہیں ہے کہ باہر سے بیٹھ کر ہدایات دے کر کھلاڑیوں کو کنفیوز کیا جائے۔‘

اسی بارے میں