کرکٹ کے ذریعے نئی زندگی کا پیغام

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

کرائسٹ چرچ دو ہزار گیارہ کے زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد ایک نئی شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔

اس زلزلے نے بہت کچھ تباہ کیا جن میں لنکاسٹر پارک بھی شامل ہے جو جیڈ اسٹیڈیم کے نام میں بھی تبدیل ہوا اور پھر وہ اے ایم آئی اسٹیڈیم کہلایا۔

نیوزی لینڈ نے چونکہ انٹرنیشنل کرکٹ جاری رکھنی تھی لہذا ہیگلے پارک کے ایک حصے کو کرکٹ کے لیے منتخب کرلیا گیا اور ایک سال سے اب ہیگلے پارک کرائسٹ چرچ میں بین الاقوامی کرکٹ میچز کی میزبانی کررہا ہے۔

لنکاسٹر پارک اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے ۔

آئی سی سی نے گزشتہ سال اکتوبر میں ہیگلے اوول کو ورلڈ کپ کی میزبانی کا گرین سگنل دیا تھا۔

ورلڈ کپ کا افتتاحی میچ اسی میدان میں نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے درمیان کھیلا گیا اور عالمی مقابلے کے دو مزید میچز اس میدان میں کھیلے جانے والے ہیں جن میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان میچ بھی شامل ہے۔

نیوزی لینڈ کے شہرۂ آفاق آل راؤنڈر سر رچرڈ ہیڈلی کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے میچز کا کرائسٹ چرچ میں انعقاد دراصل دنیا کو یہ پیغام ہے کہ ہم زندگی کی طرف لوٹ آئے ہیں۔

ہیگلے اوول ایڈیلیڈ اوول کی طرح خوبصورت طرز تعمیر والے اسٹینڈز کی طرح شاہکار نہیں ہے ۔اس میدان میں اٹھارہ ہزار شائقین کی گنجائش ہے۔

مرکزی عمارت کوہیڈلی پویلین کانام دیا گیا ہے جس میں ہیڈلی خاندان کی تصویر آوازاں ہے ورلڈ کپ کی مناسبت سے شریک ملکوں کے پرچم بھی وہاں موجود ہیں۔

کرائسٹ چرچ سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی پرانی یادیں وابستہ ہیں۔

میں پاکستان نے اپنا اولین ون ڈے انٹرنیشنل اسی شہر میں کھیلا تھا اور یہ بھی اتفاق ہے کہ لنکاسٹرپارک میں جب آخری بین الاقوامی میچ کھیلا گیا وہ بھی پاکستان کا ہی تھا۔

اسی بارے میں