کوچ سب سکھا رہے ہیں، کھلاڑیوں کو ذمہ داری لینی ہوگی: مصباح

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب کھلاڑیوں کو ذمہ داری لینی ہوگی اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ اچھا نہیں کھیل رہے: مصباح الحق

پاکستان کی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں اپنے پہلے دونوں میچ بھاری فرق سے ہارچکی ہے اور کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز جب تک بطور ٹیم نہیں کھیلیں گے فتح ان سے روٹھی ہی رہے گی۔

سنیچر کو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں 150 رنز کی شکست کے بعد کرائسٹ چرچ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مصباح نے کہا ہے کہ اب پاکستانی ٹیم کے لیے صورتحال ’بن جائے یا بگڑ جائے‘ والی ہے اور ٹیم ایک دوراہے پر پر کھڑی ہے۔

اس میچ کے بعد پاکستانی ٹیم کو زمبابوے، متحدہ عرب امارات اور آئرلینڈ جیسی نسبتاً کمزور ٹیموں کے علاوہ جنوبی افریقہ جیسی بڑی اور ان فارم ٹیم سے بھی میچ کھیلنے ہیں اور مزید ایک شکست پاکستانی ٹیم کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر سکتی ہے۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف جو کارکردگی دکھائی وہ مجموعی طور پر ٹیم کے اعتماد کو متزلزل کر سکتی ہے اور کھلاڑیوں کو اگلے میچ سے قبل اس شکست سے ذہنی طور پر باہر نکلنا ہوگا اور مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔

’ورلڈکپ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ آپ کو خود کو سنبھالنا ہوتا ہے اور حکمتِ عملی کے بارے میں سوچنا ہوتا ہے کہ کہاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’ہمیں ایک ٹیم کے طور پر کارکردگی دکھانا ہوگی، ایک یا دو کی کارکردگی سے فتح نہیں مل سکتی۔‘

پاکستانی کپتان کا کہنا تھا کہ کوچ ٹیم کو سب کچھ سکھا رہے ہیں اور اب کھلاڑیوں کو ذمہ داری لینی ہوگی اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ اچھا نہیں کھیل رہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ٹاپ آرڈر کے بلے باز مشکلات کا شکار ہیں اور بعض اوقات اعتماد کی کمی کا نتیجہ ایسی ہی کارکردگی نکلتی ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں کچھ بھی اچھا نہ ہو سکا اور اگلے میچوں میں ٹیم کو اپنے کھیل میں غیر معمولی بہتری لانی ہوگی لیکن اگر انھوں نے ایسا ہی کھیل کھیلا جو ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا تو پھر کچھ بھی نہیں ہو سکے گا۔

پاکستانی کپتان نے کہا کہ ’یہاں کی کنڈیشنز ان کے کھلاڑیوں کے لیے آسان نہیں ہیں اور پاکستانی بیٹسمین خاص کر نئی گیند کھیلنے کے معاملے میں ان وکٹوں کے عادی نہیں ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونس خان کی مسلسل ناکامی پر مصباح الحق کا کہنا تھا کہ لوگ جلدی فیصلہ کر لیتے ہیں جبکہ اس وقت ایسی ٹیم بنانا اہم ہے جو جیتے

انھوں نے کہا کہ یہ یقین بھی رکھنا ہوگا کہ یہ ٹیم اگلے چاروں میچز جیت سکتی ہے اور اس کے لیے کوشش بھی کرنی ہوگی ۔

مصباح الحق نے کہا کہ محمد حفیظ اور سعید اجمل کی غیر موجودگی میں یہ مشکل ہے کہ آپ چھ بیٹسمینوں اور پانچ ریگولر بولرز کے ساتھ کھیلیں لہذا سات بیٹسمینوں کے ساتھ ٹیم میدان میں اتر رہی ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ اس ٹیم میں کوئی خرابی نہیں ہے یہ بہترین دستیاب کرکٹرز میں سے منتخب کی گئی ہے۔

یونس خان کے مستقبل کے بارے میں سوال پر مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگ بہت جلدی فیصلے کر لیتے ہیں۔دیکھنا یہ ہوگا کہ اس اہم صورتحال میں ایسی ٹیم بنائی جائے جو میچ جیتے۔‘

اسی بارے میں