علی اور لسٹن کے دستانے لاکھوں ڈالر میں نیلام

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جس مکے سے محمد علی نے سونی لسٹن کو خاک چاٹنے پر مجبور کیا اسے ’فینٹم پنچ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

باکسنگ کی دنیا کے دو سابق عالمی چیمپیئنز محمد علی اور سونی لسٹن کے دستانے لاکھوں ڈالر میں نیلام ہوئے ہیں۔

نیویارک میں ہریٹیج آکشنز کے تحت ہونے والی نیلامی میں ایک گمنام خریدار نے انھیں نو لاکھ 65 ہزار ڈالر میں خریدا۔

یہ دستانے ان دونوں باکسرز نے 1965 میں امریکی ریاست مین میں ہونے والے ایک مقابلے میں پہنے تھے۔

محمد علی نے یہ ری میچ مقابلہ سونی لسٹن کو پہلے ہی راؤنڈ میں ناک آؤٹ کر کے جیت لیا تھا۔

مئی 1965 میں ہونے والی یہ فائٹ وہ پہلا مقابلہ تھا جس میں محمد علی نے اسلام قبول کرنے اور نام تبدیل کے بعد شرکت کی تھی۔

جس مکے سے انھوں نے سونی کو خاک چاٹنے پر مجبور کیا اسے ’فینٹم پنچ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

محمد علی اور سونی لسٹن کی یہ فائٹ کسی ہیوی ویٹ اعزاز کے لیے ہونے والے مختصر ترین مقابلوں میں سے ایک تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مئی 1965 میں ہونے والی یہ فائٹ وہ پہلا مقابلہ تھا جس میں محمد علی نے اسلام قبول کرنے اور نام تبدیل کے بعد شرکت کی تھی۔

اس مقابلے کے فوراً بعد ریاستی باکسنگ کمشنر جارج روسو نے دونوں باکسرز کے دستانے اپنی تحویل میں لے لیے تھے۔

ان کے اس عمل کی وجہ مقابلے کا نتیجہ پہلے سے طے ہونے کی افواہیں تھیں۔

یہ دستانے روسو کے خاندان کے پاس ہی رہے اور چند برس قبل کیلیفورنیا کے ایک شخص نے انھیں ان سے خریدا تھا۔

محمد علی نے 1995 میں لیوسٹن کے دورے کے موقع پر اپنے دستانوں پر دستخط بھی کیے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس فروری میں محمد علی کے ہی وہ دستانے آٹھ لاکھ 36 ہزار پانچ سو ڈالر میں نیلام ہوئے تھے جنھیں پہن کر انھوں نے ہیوی ویٹ چیمپیئن سونی لِسٹن کو پہلی بار شکست دی تھی۔

اسی بارے میں