ٹیم کی مایوس کن کارکردگی غیرمتوقع نہیں: مدثر نذر

Image caption مدثر نذر نے پاکستانی ٹیم کی فٹنس کے معیار کو غیرتسلی بخش قرار دیا

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ کے پہلے دو میچوں میں جو مایوس کن کارکردگی دکھائی ہے اس پر سابق ٹیسٹ کرکٹر مدثر نذر حیران نہیں ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسی ہی کارکردگی کی توقع کررہے تھے۔

مدثر نذر دبئی میں آئی سی سی گلوبل کرکٹ اکیڈمی سے منسلک ہیں اور اس وقت وہ متحدہ عرب امارات کی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ کی حیثیت سے ورلڈ کپ میں موجود ہیں۔

مدثر نذر نے برسبین کے وولن گابا سٹیڈیم میں بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی ٹیم کو سعید اجمل، محمد حفیظ اور جنید خان کے نہ ہونے کا بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

’سعید اجمل اور محمد حفیظ دونوں ٹیم کی ضرورت تھے جبکہ جنید خان جیسی مہارت رکھنے والا فاسٹ بولر پورے پاکستان میں نہیں ہے۔ ان کا نہ ہونا بہت بڑا دھچکہ ہے۔‘

مدثر نذر نے پاکستانی ٹیم کی فٹنس کے معیار کو غیرتسلی بخش قرار دیا۔

’میں نے پاکستانی ٹیم کی ٹریننگ دیکھی میں کھلاڑیوں کی فٹنس دیکھ کر حیران ہوں۔ اس ٹیم کو کہیں زیادہ فٹ ہونا چاہیے تھا۔‘

مدثر نذر نے کہا کہ پاکستان میں 140 سے 150 کی رفتار سے بولنگ کرنے والے کئی فاسٹ بولرز موجود ہیں لیکن اگر ان کی فٹنس کا خیال رکھا جاتا تو آج ٹیم کو یہ صورتحال نہ دیکھنی پڑتی۔

انھوں نے کہا کہ آسٹریلوی وکٹوں پر عام میڈیم پیسر اور عام سپنرز کامیاب نہیں ہوتے لہٰذا بڑی سے بڑی ٹیمیں چھ بولرز کے ساتھ میدان میں اترتی ہیں۔ پاکستانی ٹیم سات بیٹسمین کھلاکر کیا کرلے گی؟ ادھوری بولنگ سے آپ اپنی حریف ٹیم کو 300 رنز بنانے کا موقع دے رہے ہیں جسے عبور کرنا پاکستانی ٹیم کے لیے مشکل ہورہا ہے۔

مدثر نذر نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کوارٹر فائنل میں پہنچ جائے گی لیکن زمبابوے کے خلاف اس کا اگلا میچ بہت اہم ہے۔

مدثر نذر نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی کسی کام کی نہیں رہی۔ بائیو مکینک مشین طویل عرصے سے بند پڑی ہے اور جس نے بھی اس اکیڈمی کو بند کیا اس نے پاکستانی کرکٹ کے ساتھ ظلم کیا۔ آج دنیا میں کسی ملک کو کرکٹ اکیڈمی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ پاکستان ہے۔

اسی بارے میں