اب پاکستانی ٹیم میں میچ ونر کھلاڑی نہیں رہے: رمیز راجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹیم میں شامل سینیئر بلے باز دباؤ کا شکار ہیں اور اب اس ٹیم میں میچ ونر نہیں رہے ہیں: رمیز راجہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں مسلسل دو میچوں میں شکست کے بعد پاکستانی ٹیم نے کوارٹر فائنل تک رسائی کو اپنے لیے مشکل بنا دیا ہے۔

بی بی سی اردو سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ اب اگلے مرحلے تک رسائی کے لیے پاکستانی ٹیم کو اچھے رن ریٹ کے علاوہ مخالف ٹیموں کے خلاف بڑے فرق سے جیت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کو جیت کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو سکے۔

رمیز جو 1992 میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے رکن بھی تھے، کہا کہ اس ورلڈ کپ میں پاکستانی بولنگ اکھڑ گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ورلڈ کپ سے پہلے ہی سعید اجمل اور محمد حفیظ کے بولنگ ایکشن مشکوک قرار دے دیے گئے جبکہ جنید خان بھی ان فٹ ہوگئے۔ اس صورتحال میں بولنگ اٹیک بری طرح متاثر ہوا اور صحیح کامبینیشن بھی تشکیل نہ دیا جا سکا۔

رمیز راجہ نے کہا کہ بولنگ کے ساتھ ساتھ بیٹنگ کے مسائل بھی ٹیم کی کارکردگی پر اثرانداز ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں شامل سینیئر بلے باز دباؤ کا شکار ہیں اور اب اس ٹیم میں میچ ونر نہیں رہے ہیں۔

یونس خان کو اوپنر کے طور پر کھلانے کے بارے میں رمیز راجہ نے کہا کہ یہ قدم یونس خان کی ٹیم میں جگہ بنانے کے طور پر اٹھایا گیا۔

’ٹیم منیجمنٹ کے ذہن میں شاید یہ بات تھی کہ یونس خان کو اوپنر کے طور پر کھلاکر بہتر کامبینیشن تیار کر لیا جائے گا۔‘

رمیز راجہ نے یاد دلایا کہ 1992 کے ورلڈ کپ میں بھی متعدد اوپننگ کامبینیشن آزمائے گئے تھے لیکن پھر عمران خان نے عامر سہیل اور ان پر اعتماد ظاہر کر دیا تھا۔

اسی بارے میں