’ڈنر کے لیے کسینو کا انتخاب غلطی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ پہلا موقع ہے کہ کرکٹ بورڈ کے کسی آفیشل کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر دورے کے درمیان میں وطن واپس بلایا گیا ہو

پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین معین خان کا کہنا ہے کہ ڈنر کے لیے کسینو ( جوا خانے ) کا انتخاب ان کی غلطی تھی جس کے لیے وہ پاکستانی عوام سے معافی کے طلب گار ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے معین خان کو کرائسٹ چرچ کے جوا خانے میں جانے کی پاداش میں وطن واپس بلا لیا ہے اور وہ پہلی دستیاب فلائٹ سے برسبین سے براستہ دبئی وطن واپس روانہ ہونے والے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کرکٹ بورڈ کے کسی آفیشل کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر دورے کے درمیان میں وطن واپس بلایا گیا ہے۔

معین خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ کرائسٹ چرچ کے کسینو میں رات کے کھانے پرگئے تھے اور وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ڈنر کے لیے جگہ کا انتخاب کرنے میں انہوں نے غلطی کرلی کیونکہ اس سے پاکستانی عوام اور کرکٹ کے شائقین کے جذبات کو ٹھیس پہنچی، اپنی اس نادانستہ حرکت پر وہ شرمندہ ہیں۔

معین خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان کو وضاحت کرتے ہوئے ان سے معافی بھی مانگ لی ہے اور وہ اس بارے میں مزید وضاحت ان سے ملاقات کرکے کریں گے جس کے لیے ان سے وطن واپس پہنچنے کے لیے کہا گیا ہے۔

معین خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھیں سب سے زیادہ دکھ اس بات پر ہے کہ ان کا موقف سنے بغیر ان کے بارے میں یک طرفہ خبریں ذرائع ابلاغ کی زینت بنیں جو کسی طور مناسب نہ تھا۔

اسی بارے میں