پاکستان زمبابوے سے رگڑ رگڑ کر جیتا ہے: رمیز راجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم زمبابوے سے رگڑ رگڑ کر جیتے ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ ’ایک سخت میچ تھا مگر جیت گئے ہیں۔ پاکستان کو یہ میچ آسانی سے جیتنا چاہیے تھا لیکن اپنے لیے مشکل کیا۔ بیٹنگ ایک مسئلہ ہے اور اگر آج بولنگ اچھی نہ ہوتی تو کام ہو گیا ہوتا۔‘

رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پاکستانی ٹیم ’اب یا کبھی نہیں‘ کی سپرٹ سے کھیلیں ہیں۔ ’جس کی وجہ سے ایک دم جو بولنگ تھی اور فیلڈنگ پرفارمنس وہ بہت اچھی تھی۔ جیت تو جیت ہے بہر کیف چاہے زمبابوے کے خلاف ہو مگر آسانی سے جیتنا چاہی تھا۔‘

ٹیم سلیکشن کے بارے میں سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ کا کہنا تھا ’آؤٹ آف فارم یونس خان کو تو ٹھیک ریسٹ دلایا گیا لیکن یاسر شاہ کو ضرور کھلانا چاہیے تھا کیونکہ وہ بڑے پائے کا لیگ سپنر ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مصباح کو ٹیم میں مزید تھوڑی تبدیلی لانی ہو گی۔ مصباح کو آؤٹ آف دا باکس سوچنا پڑے گا۔‘

1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والی اور 2015 کی اس پاکستانی ٹیم میں فرق کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر رمیز راجہ نے کہا ’اس وقت ہم لکی (خوش قسمت) بھی تھے، کپتان بھی تھوڑا سا مختلف تھا۔ اس کے علاوہ ہم نے پِک بھی صحیح موقع پر کیا، میچ ونرز تھے، ہمارا کمبینشن بن گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ٹیم آگے جاسکتی ہے۔ یہ ٹیم اگر کوارٹر فائنل میں چلی گئی تو پھر تو آپ کو اس دن اچھا کھیلیں گے تو کچھ بنے گا۔‘

اسی بارے میں