پاکستان اور امارات بدھ کو مدمقابل ہوں گے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین اب تک ہونے والے دونوں میچ پاکستان نے جیتے ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں اپنا چوتھا میچ بدھ کے روز متحدہ عرب امارات کے خلاف نیوزی لینڈ کے شہر نیپئر میں کھیل رہی ہے۔

پاکستانی ٹیم بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست کے بعد زمبابوے کے خلاف اپنا تیسرا میچ سخت مقابلے کے بعد بیس رنز سے جیتی ہے اور پول بی میں چھ ٹیموں میں وہ دو پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔

متحدہ عرب امارات کا 1996 کے بعد یہ دوسرا ورلڈ کپ ہے۔ وہ ان چار ٹیموں میں سے ایک ہے جنہوں نے اس عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔

پاکستان کے خلاف میچ سے قبل متحدہ عرب امارات نے تین میچز کھیلے ہیں اور اسے تینوں میں شکست ہوئی ہے۔

زمبابوے نے اسے چار وکٹوں سے آئرلینڈ نے دو وکٹوں سے اور بھارت نے نو وکٹوں سے شکست دی ہے۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اب تک دو ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے جاچکے ہیں اور دونوں میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے۔

1994 کے آسٹریلیشیا کپ میں پاکستان نے عامر سہیل اور انضمام الحق کی نصف سنچریوں کی بدولت نو وکٹوں سے میچ جیتا تھا جبکہ 1996 کے عالمی کپ میں بھی پاکستان نو وکٹوں سے فاتح رہا تھا ۔ اس میچ میں مشتاق احمد نے تین وکٹیں حاصل کی تھیں اور اعجاز احمد نے ناقابل شکست نصف سنچری بنائی تھی۔

متحدہ عرب امارات کی ٹیم میں اکثریت ان ایشیائی کرکٹرز کی ہے جو ذریعہ معاش کے لیے امارات میں مقیم ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے اب تک اکیس ون ڈے انٹرنیشنل کھیل رکھے ہیں جن میں سے اس نےصرف پانچ جیتے ہیں ان پانچ میں تین کامیابیاں افغانستان کے خلاف رہی ہیں۔ ایک ایک میچ اس نے ہالینڈ اور ہانگ کانگ کے خلاف جیتا ہے۔

مک لین پارک پاکستان کے لیے خوش بختی کی علامت نہیں رہا ہے۔

اس میدان میں اس نے نیوزی لینڈ کے خلاف چھ ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے ہیں اور پانچ میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کی واحد کامیابی دو ہزار گیارہ میں رہی تھی جس میں اس نے مصباح الحق کے ناقابل شکست93 رنز کی بدولت دو وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔