ریکارڈ بنانے والے بیٹسمین اور مار کھاتے بولر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دو ہفتوں سے جاری کرکٹ ورلڈ کپ میں اے بی ڈویلیئرز اور کرس گیل کی شاندار اننگز دیکھنے کو ملیں اور یہ بحث بھی ہوئی کہ آیا آئرلینڈ اور افغانستان اگلی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلیں گے۔ اور انگلینڈ کے ساتھ وہی پہلے والی مایوسی۔

اس ٹورنامنٹ کے 49 میچوں میں سے 23 میچ ہو چکے ہیں۔ پیر کو آرام کا دن ہے اور اس کے بعد پھر کھیل شروع ہو گا۔

اب جب کہ سبھی 14 ٹیمیں اپنے گروپ کے میچوں میں سے تقریباً آدھے میچ کھیل چکی ہیں دیکھتے ہیں کہ ہمیں کیا پتہ چلا ہے اس کھیل کے بارے میں اب تک۔

انگلینڈ تقریباً ٹھیک ہی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ انگلینڈ تین میچ ہار چکا ہے یہ آگہی کہ ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی حکمتِ عملی ٹھیک ہے شاید اس ٹورنامنٹ کی سب سے حیران کن بات ہو۔

گذشتہ ورلڈ کپ میں جب سابق کپتان ایلسٹر کک پر دباؤ بڑھا تو انگلینڈ کو لگاتار اس تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ اس کے بیٹسمین اننگز کے آغاز میں اچھی حکمتِ عملی نہیں اپناتے۔

کک کے دفاع میں کوچ پیٹر موریز نے ستمبر میں کہا تھا: ’آپ کو آخر میں سٹرائیک کرنے کے لیے کچھ وکٹیں سنبھالنا ہوتی ہیں۔‘

اس ورلڈ کپ کو سامنے رکھتے ہوئے، موریز کی بات ٹھیک ہی ثابت ہوتی ہے۔

2013 اور 2014 کے تقریباً تمام ایک روزہ میچوں میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیموں نے پہلے 20 اوورز میں دو کے قریب وکٹ کھو کر اوسطاً 277 سکور کیا تھا۔ لیکن ابھی تک اس ورلڈ کپ میں یہ اوسط 307 ہو چکی ہے۔

اتوار کو انگلینڈ کرکٹ کے نئے چیئرمین کولن گریوز نے کہا تھا کہ ورلڈ کپ میں بیٹنگ شروع میں بہت ہی جارحانہ ہوتی ہے۔

حقیقت میں ورلڈ کپ میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیموں کے پہلے 10 اوورز کی اوسط سنہ 2011 کے عالمی کپ سے تقریباً چار رنز نیچے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں اور سٹاف کی سوچ بالکل درست ہو۔ مسئلہ اسے عملی جامہ پہنانے کا ہے۔

آسٹریلیا میں پہلے بیٹنگ کریں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

آسٹریلیا میں کھیلے گئے میچوں میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے دس میں سے آٹھ میچ جیتے ہیں۔

کیا آسٹریلیا کے حالات بیٹنگ کے لیے اچھے ہیں؟ اعداد و شمار کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ 300 رنز یا اس سے زائد کی 12 پہلی اننگز میں چھ آسٹریلیا اور چھ نیوزی لینڈ میں کھیلی گئیں اور نیوزی لینڈ میں تین مرتبہ 285 سے زیادہ رنز کا کامیابی سے تعاقب کیا گیا۔

کیا رات کو لائٹ کی روشنی میں رنز کا تعاقب چیلنجنگ ہے؟ شاید ہو، کیونکہ آسٹریلیا میں ہر میچ دن اور رات کو ہوتا ہے۔ لیکن نیوزی لینڈ میں بڑے میچوں میں دن کی روشنی میں ہدف کا تعاقب کامیابی سے کیا گیا۔

جیسے جیسے ٹورنامنٹ آگے بڑھتا جاتا ہے تو یہ بھی ایک مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ چار کوارٹر فائنلز میں سے تین آسٹریلیا میں ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایک سیمی فائنل اور پھر فائنل بھی میلبرن میں ہو گا۔ کیا اتنے بڑے میچوں کا فیصلہ ٹاس کرے گا؟

بی بی سی کے کرکٹ کے نمائندے جوناتھن ایگنیو کہتے ہیں ’ایسا ہو سکتا ہے۔ کھلاڑیوں کو کوشش کرنے چاہیے کہ وہ ٹاس کو اثر انداز نہ ہونے دیں خصوصاً اچھی باؤلنگ کر کے۔ لیکن اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو سکور بورڈ پریشر کی وجہ سے رنز کا تعاقب مشکل ہو جائے گا۔‘

کرس گیل فیکٹر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ویسٹ انڈیز کے بائیں بازو سے کھیلنے والے اوپنر کرس گیل نے گذشتہ 12 اننگز میں کل 199 رنز بنائے تھے۔ اور پاکستان کے خلاف بھی صرف چار کے مجموعی سکور پر آؤٹ ہونے کے بعد ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین دیو کیمرون نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’گیل گئے۔۔۔ کوئی رن نہ بنا سکے۔ چلو اسے کوئی ریٹارمنٹ پیکج دے دیتے ہیں۔‘

لیکن اپنے اگلے ہی میچ میں زمبابوے کے خلاف گیل نے ورلڈ کپ کے کئی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ انھوں نے ورلڈ کی تاریخ کی پہلی ڈبل سنچری بنائی۔ ان کے 215 رنز میں 16 چھکے شامل تھے (یہ ریکارڈ انھوں نے برابر کیا)، اور اس کے علاوہ وہ کرکٹ کی تاریخ کے پہلے بیٹسمین بنے جنھوں نے ٹیسٹ میں ٹرپل سنچری، ایک روزہ میچ میں ڈبل سنچری اور ٹی 20 میں سنچری بنائی ہے۔

ویسٹ انڈیز کے عظیم بیٹسمین سر ووین رچرڈز نے گیل کی اننگز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک حیرت انگیز اننگز تھی۔ وہ چیز جو صرف چیمپیئن ہی کر سکتے ہیں۔‘

سپن ابھی بھی اہم ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

خیال تھا کہ اس ورلڈ کپ میں سپن باؤلنگ کو نہیں آزمایا جائے گا۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں موسمی حالات تیز بولروں کے لیے زیادہ سود مند ہیں اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے غیر قانونی باؤلنگ ایکشن پر پابندی سے بھی سرکردہ سپنرز متاثر ہوئے ہیں۔

سعید اجمل اور سنیل نارائن، جو کہ آئی سی سی کی ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی رینکنگ میں پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں، غیر قانونی ایکشن پر پابندی کی وجہ سے ورلڈ کپ نہیں کھیل رہے جبکہ عالمی نمبر 15 محمد حفیظ کے بھی بطور باؤلر کھیلنے پر پابندی تھی۔

لیکن اس کے باوجود اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے آٹھ بولروں میں سے تین، عمران طاہر، روی چندرن آشون اور ڈینیئل ویٹوری سپنر ہیں۔

سٹریکرز سے ’محبت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کرکٹ کے پنڈتوں کو صرف کرکٹ سے پیار ہے تو آپ ایک مرتبہ پھر اس پر دھیان دیں۔

جب آسٹریلوی کھلاڑی میلبرن میں انگلینڈ کی دھلائی کر رہے تھے تو ایک سٹریکر کی خبر سنتے ہی فوراً شین وارن، مائیکل سلیٹر اور برینڈن جولیئن ٹیسٹ میچ سپیشل باکس میں بہتر ’نظارے‘ کے لیے آئے۔

کرائسٹ چرچ میں انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے درمیان میچ میں ایک اور سٹریکر سکیورٹی کا حصار توڑتے ہوئے پچ کی طرف آیا اور پھر براڈکاسٹ کے حصے کی طرف سے نکل گیا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر جیفری بائیکاٹ نے بھی جب ننگے شخص کو لکڑی کی باڑ پھلانگتے دیکھا تو اس کے ورزشی جسم کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔

لیکن اس سے صرف بائیکاٹ ہی متاثر نہیں تھے۔ اگلے دن نیوزی لینڈ کے اخبارات کے پہلے صفحے پر وہ سٹریکر ایک اہم خبر تھا۔

اسی بارے میں