ہم اپنے دماغ تحقیق کے لیے عطیہ کرتے ہیں: امریکی فٹبالرز

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکن فٹبال کے چار ہزار سے زیادہ سابقہ کھلاڑیوں نے کھیل کے دوران سر پر لگنے والی چوٹوں کی وجہ سے این ایف ایل پر ہرجانے کا دعویٰ کیا ہوا ہے

امریکہ کے دو معروف فٹ بال کھلاڑیوں سٹیو وئیدرووڈ اور سڈنی رائس کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی موت کے بعد ان کے دماغ طبی تحقیق کے لیے عطیہ کردیئے جائیں۔

نیویارک جائنٹس کے کھلاڑی سٹیو وئیدرووڈ اور سیئیٹل سی ہاکس کے سابق کھلاڑی سڈنی رائس دماغ کے بارے میں جاری تحقیق میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکن فٹبال کے بہت سے سابق کھلاڑی ذہنی بیماری کا شکار ہیں۔

سٹیو وئیدرووڈ کا کہنا تھا کہ ’دماغ کی چوٹوں سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ان سے صرف کھلاڑی ہی نہیں ہر کوئی متاثر ہوتا ہے۔‘

سیاٹل سی ہاکس کی جانب سے کھیلنے والے 27 سالہ سڈنی رائس پچھلے سال کھیل سے ریٹائر ہو گئے تھے کیونکہ انھیں خدشہ تھا کے کھیل کے دوران سر پر لگنے والی چوٹوں سے ان کی صحت ہمیشہ کے لیے متاثر ہو سکتی ہے۔

دونوں کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کے اس اقدام سے دوسرے بھی دماغی چوٹوں کے متعلق جاری تحقیق میں مدد فراہم کریں گے۔

خیال رہے کہ امیریکن فٹبال کے 4 ہزار سے زیادہ سابقہ کھلاڑیوں نے کھیل کے دوران سر پر لگنے والی چوٹوں کی وجہ سے نیشنل فٹبال لیگ (این ایف ایل) پر ہرجانے کا دعویٰ کیا ہوا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ این ایف ایل متاثرہ کھلاڑیوں کو ایک ارب ہرجانہ دینے پر رضامند ہو گئی ہے۔

سٹیو وئیدرووڈ کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے بہت سے ساتھی اور دوست سر پر لگنے والی چوٹوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے ذہنی دباؤ سے متاثر ہوئے ہیں۔‘

دونوں کھلاڑیوں نے یہ مشترکہ اعلامیہ اس وقت جاری کیا ہے جب امریکہ میں پہلے ہی دماغی چوٹوں کی آگاہی کا مہینہ منایا جا رہا ہے۔

سڈنی رائس جو 8 سال کی عمر سے امریکن فٹبال کھیل رہے ہیں کا اندازہ ہے کہ ان کو کھیل کے دوران 15 سے 20 بار سر پر چوٹیں آئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے کھیل کے دوران کافی دفعہ چوٹیں لگیں، مگر بدقسمتی سے میں اس چیز سے واقف نہیں تھا کہ ان چوٹوں کی وجہ سے کیا مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ دماغی چوٹوں کے بارے میں آگاہی اور ان کی روک تھام کے لیے ڈاکٹروں کی تحقیق بہت مفید ثابت ہوگی۔‘

اسی بارے میں