کامیاب ترین ’مظلوم‘ کپتان

مصباح الحق تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مصباح الحق پاکستان کے سب سے کامیاب کپتان ہیں

دوسرے نوکری کے اشتہارات کے برعکس یہ اشتہار کوئی اتنا دلکش نہیں ہے۔

’مطلوب ہے۔ ایک کپتان جو ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کی سربراہی کرے جو سپاٹ فکسنگ تنازع میں گھری ہوئی ہے۔ ہمارے ملک میں کوئی میچ نہیں کھیلے جا سکتے اور آپ کو بالآخر اپنے دو سرکردہ باؤلرز سے ان کے ایکشن پر تشویش کی وجہ سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

’گزشتہ چار سال میں اس پوسٹ کے پانچ عہدے دار رہ چکے ہیں اس لیے درخواست گذار جاب سکیورٹی کی امید نہ رکھیں۔‘

مصباح الحق نہ صرف بطور کپتان اپنے عہدے پر قائم رہے ہیں بلکہ وہ کامیاب بھی ہیں۔ ان کی سربراہی میں 15 ٹیسٹ کامیابیاں کسی بھی پاکستانی کپتان کی سب سے زیادہ کامیابیاں ہیں۔

اب جب وہ ورلڈ کپ کے بعد محدود اوورز کی کرکٹ کو خیر آباد کہہ رہے ہیں، ایسے بہت مضامین ہیں جن پر 40 سالہ کرکٹر دل کی گہرائی اور دیانت داری سے اپنی رائے دے رہے ہیں۔

آپ نے 2010 کے سپاٹ فکسنگ کے معاملے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا کس طرح سامنا کیا؟ کیا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سعید اجمل کے ساتھ ان کے باؤلنگ ایکشن کی وجہ سے غیر منصفانہ سلوک کیا؟ اپنے ملک میں اپنی ٹیم کی سربراہی نہ کر سکنا کتنا مایوس کن ہے؟

لیکن پہلے بڑا سوال۔

کیا آپ انڈین پریمیئر لیگ کے ذمہ دار ہیں؟

آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ 2007 میں پہلے ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل کے آخری اوور میں مصباح کریز پر تھے اور جیت کے لیے صرف چھ رنز درکار تھے۔ ان کی سکوپ شاٹ کو فائن لیگ پر کیچ کیا گیا اور اس طرح انڈیا چیمپیئن بن گیا۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس طرح ٹی 20 بہت مشہور ہو گیا اور آئی پی ایل نے اس سے فائدہ اٹھایا۔

مصباح نے بی بی سی سپورٹس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ 2007 میں ہونے والے ورلڈ ٹی 20 نے پوری دنیا کو پیغام دیا تھا کہ ٹی 20 کرکٹ کا مستقبل ہے۔‘

’اگر پاکستان جیت جاتا تو کیا آئی پی ایل ہوتی، یہ مجھے نہیں معلوم، لیکن اس کی حریف انڈین کرکٹ لیگ پہلے ہی آ چکی تھی۔‘

کرکٹ کے اس چھوٹے کھیل کی وجہ سے مصباح کے بین الاقوامی کیریئر کو ظہور ملا، جو کہ پہلے عدم استحکام کا شکار تھا اور ٹیم کے مڈل آرڈر میں انضمام الحق، محمد یوسف اور یونس خان جیسے بیٹسمین موجود تھے۔

ایک اور بری کارکردگی کی وجہ سے مصباح کو سنہ 2010 کے انگلینڈ جانے والے سکواڈ میں بھی نہیں شامل کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت دل چاہتا تھا کہ اپنی سب کرکٹ کی چیزوں کو آگ لگا دوں۔‘

لیکن انگلینڈ کے کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ مصباح کی خوش قسمتی تھی کہ وہ ٹیم میں شامل نہیں تھے۔ انھوں نے دور سے پاکستان کرکٹ کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ باؤلرز محمد آصف اور محمد عامر کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی وجہ سے پاکستانی کرکٹ کو تاریکی میں ڈوبتے دیکھا۔

اس کے نتیجے میں قومی ٹیم کو مصباح جیسے پرسکون شخص کی ضرورت تھی۔ ان کا بطور کپتان پہلا میچ ہی ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی تھی۔

Image caption مصباح نے ابھی تک ورلڈ کپ میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز بنائے ہیں

’مجھے لگا کہ یہ ذمہ داری لینے کا وقت ہے۔‘

’آپ کو کھڑا ہو کر دنیا کو دکھانا تھا کہ آپ ایک اچھی کرکٹنگ نیشن ہیں، نہ صرف اپنی کارکردگی سے بلکہ اپنے طرزِ عمل اور رویے سے بھی۔‘

جب مصباح نے کپتانی کا عہدہ سنبھالا تو ان کی عمر 36 برس تھی۔ لیکن وہ اپنی کپتانی میں صرف تجربہ اور ضبط نہیں لائے۔ ان کی بزنس مینجمنٹ کی ڈگری نے بھی ان کی مدد کی۔

’میں نے ہیومن ریسورس مینجمنٹ اور لیڈرشپ کے متعلق سیکھا۔ اگر آپ نے تعلیم حاصل کی ہو تو وہ یقیناً آپ کی اچھا انسان بننے میں مدد کرتی ہے۔ اس نے میری مدد کی۔‘

مصباح کا اثر پاکستانی ٹیم پر فوری اور دیرپا ہے۔ ان کی سربراہی میں ٹیم نے 15 ٹیسٹ سیریز میں سے صرف تین ہاری ہیں۔

متحدہ عرب امارات جہاں اب پاکستانی ٹیم کھیلتی ہے، وہاں پاکستان سات سیریز جیت چکا ہے اور آسٹریلیا اور انگلینڈ کو وائٹ واش کر چکا ہے۔

لیکن متحدہ عرب امارات میں کھیلنے کی وجہ سے مصباح کے کیریئر میں ابھی ایک کمی ہے۔ انھوں نے 34 ٹیسٹ میچوں، 84 ایک روزہ میچوں اور آٹھ ٹی 20 میچوں میں سے کوئی بھی پاکستان میں نہیں کھیلا۔ اور بدقسمتی سے یہ حالت شاید ان کے کرکٹ سے ریٹائر ہونے تک رہے۔

’اس کا بہت دکھ ہوتا ہے۔ آپ پاکستان میں کرکٹ کھیلتے ہوئے پروان چڑھے ہیں اور آپ اپنے لوگوں کے سامنے بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔‘

’مجھے نہیں پتہ کہ یہ کب بدلے گا۔ یہ آئی سی سی کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ ہم امید اور دعا کر سکتے ہیں کہ ایسا ہو کیونکہ ایسا جلد سے جلد ہونا چاہیے۔‘

ہونا تو ایسا چاہیے کہ ان حالات میں کامیابیاں حاصل کرنے اور 50 کے قریب اوسط سے بیٹنگ کرنے والے کی پاکستان میں بڑی پذیرائی ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ ان کی ایک روزہ کرکٹ کی وجہ سے پاکستان میں لوگوں کی رائے منقسم ہے۔

ورلڈ کپ سے پہلے اپنے 13 ایک روزہ میچوں میں پاکستان نے تین جیتے اور 10 ہارے تھے جن میں اکثر مصباح پر آہستہ کھیلنے کا الزام لگتا تھا۔

ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں اپنے دیرینہ حریف بھارت سے ہارنے کے بعد سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختر نے مصباح کو بزدل اور خود غرض کہا۔

مصباح کہتے ہیں کہ ’ہمیشہ سے ہی ایسا ہوتا رہا ہے۔ تنقید برائے تنقید، کرکٹ کی جگہ شخصیات پر تنقید۔ یہ مضحکہ خیز ہے۔‘

ابھی مصباح ورلڈ کپ میں پاکستان کے سب سے زیادہ سکور کرنے والے کھلاڑی ہیں۔

وہ کہتے ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے آئی پی ایل میں نہ کھیلنے کی وجہ سے وہ نئی مہارت حاصل نہیں کر رہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب تمام ممالک یہ حاصل کر رہے اور آپ کے کھلاڑی نہیں کر پا رہے تو اس کا آپ کے کھلاڑیوں کے کھیلنے کے معیار پر یقیناّ اثر پڑے گا۔

اسی بارے میں