’پاکستانی ٹیم کو قابو کرنا آسان نہیں ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈیل سٹین کی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کی خواہش پوری نہیں ہوسکی

جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولر ڈیل سٹین پاکستانی کرکٹ ٹیم کو کسی طور بھی نظرانداز کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ اس سے ایک سخت مقابلے کی توقع رکھے ہوئے ہیں۔

ورلڈ کپ 2015 میں دونوں ٹیموں کے درمیان سنیچر کو آک لینڈ میں میچ کھیلا جائے گا۔

ڈیل سٹین کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم جس صورتحال سے دوچار ہے اس میں اپنے اگلے دونوں میچ جیتنے کے لیے پرعزم ہوگی اور ایسا نہیں ہے کہ جنوبی افریقی ٹیم کے لیے پاکستانی ٹیم کو قابو کرنا آسان ہوگا۔

سٹین جو اس عالمی کپ میں چار میچوں میں صرف پانچ وکٹیں حاصل کر سکے ہیں کہتے ہیں کہ انہوں نے بری بولنگ نہیں کی ہے لیکن زمبابوے کے خلاف بولنگ کے بنیادی اصولوں پر عمل نہ کر کے صرف اور صرف تیز رفتاری سے بولنگ کی کوشش کی حالانکہ وکٹ سلو تھی تاہم اس کے بعد ان کی کارکردگی میں بتدریج بہتری آتی گئی۔

ڈیل سٹین نے کہا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ پانچ وکٹیں حاصل کریں یا صرف ایک وکٹ لیں ۔ ’اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ کی کارکردگی ٹیم کے کتنی کام آتی ہے کہ ٹیم میچ جیتے۔‘

انہیں یقیناً ہر میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرکے خوشی ہوتی ہے وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ اس ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر ہوں لیکن ایسا نہیں ہوسکا ہے۔

ڈیل سٹین سے جب پوچھا گیا کہ اے بی ڈی ویلیئرز چھوٹی باؤنڈری والے اس میدان میں کیا غضب ڈھائیں گے تو انہوں نے کہا کہ بڑا بولر یہ نہیں دیکھتا کہ باؤنڈری چھوٹی ہے یا بڑی اسی طرح بڑا بولر یہ نہیں دیکھتا کہ وکٹ پر گھاس ہے یا سیدھی وکٹ ہے۔

ڈیل سٹین نے کہا کہ اے بی ڈی ویلیئرز بہت ہی زبردست بیٹسمین ہیں جو نیٹ پریکٹس میں بھی آپ کو اپنے گُر اور راز نہیں بتاتے امید ہے کہ پاکستان کے خلاف میچ اور اس کے بعد بھی ان کی طرف سے شاندار بیٹنگ دیکھنے میں آئے گی۔

ڈیل سٹین نے بولنگ کوچز کی حیثیت سے ایلن ڈونلڈ اور وقاریونس کے ساتھ جنوبی افریقہ اور آئی پی ایل میں گزارے گئے وقت کے بارے میں کہا کہ یہ دونوں اپنے دور کے بڑے بولرز رہے ہیں جن کا وسیع تجربہ ان کے بہت کام آیا ۔

’ایسے عظیم کرکٹرز جب آپ کے ساتھ ہوتے ہیں تو کوچنگ سے زیادہ ذہنی طور پر مضبوط ہونے کے بارے میں آپ ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔‘

اسی بارے میں