’ریٹائرمنٹ کا تعلق فارم سے نہیں، یہ تو احساس کی بات ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اسی ورلڈ کپ کے دوران سنگاکارا نے ایک روزہ کرکٹ میں 14 ہزار رنز بھی مکمل کیے ہیں

سری لنکا کے تجربہ کار بلے باز کمارا سنگاکارا کا کہنا ہے کہ وہ کرکٹ ورلڈ کپ میں اپنی شاندار کارکردگی کے باوجود اس ٹورنامنٹ کے بعد ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ تبدیل نہیں کریں گے۔

سنگاکارا نہ صرف اس وقت ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز ہیں بلکہ انھوں نے ون ڈے میچوں میں لگاتار چار سنچریاں بنانے کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔

انھوں نے اپنی چوتھی سنچری بدھ کو سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں بنائی۔

اس میچ کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے 37 سالہ بلے باز نے کہا کہ ’ریٹائرمنٹ کا تعلق آپ کی فارم سے نہیں۔ یہ تو وقت، جگہ اور اس احساس کی بات ہے جو آپ کو درست لگتا ہے۔‘

سری لنکن کپتان اینجلو میتھیوز نے سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں فتح کے بعد کہا کہ انھوں نے سنگاکارا کا ریٹائرمنٹ کا فیصلہ تبدیل کروانے کی کوشش میں ان کے پیر تک پکڑ لیے تھے۔

اس سوال پر کہ کیا ان کی موجودہ فارم انھیں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر سکتی ہے سنگاکارا کا کہنا تھا کہ’نہیں۔ یہ بات تو کبھی تھی ہی نہیں کہ میں کھیل سکتا ہوں یا نہیں۔‘

2000 میں سری لنکا کے لیے ایک روزہ کرکٹ شروع کرنے والے سنگاکارا نے کہا کہ انتہائی اعلیٰ درجے کی کرکٹ ان کے جسم پر اثرانداز ہونے لگی ہے۔

’میں طویل عرصے سے بلے بازی اور وکٹ کیپنگ کر رہا ہوں۔ اب میرے لیے یہ مشکل ہوتا جا رہا ہے اور میرے جوڑ درد کرنے لگے ہیں لیکن میں خود کو اس ٹیم کا رکن پا کر خوش قسمت محسوس کرتا ہوں۔‘

لگاتار چار سنچریوں کے عالمی ریکارڈ پر بات کرتے ہوئے سری لنکن وکٹ کیپر نے کہا ’ریکارڈز معنی رکھتے ہیں۔ یہ وہ مخصوص اہداف ہوتے ہیں جن کا آپ تعاقب کرتے ہیں اور یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’بات صرف ان کے تعاقب کی نہیں۔ اگر آپ سب کام صحیح طریقے سے کرتے جائیں تو چیزیں خود بخود آپ کے لیے ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔‘

کمارا سنگاکارا اب تک ورلڈ کپ مقابلوں میں پانچ سنچریاں بنا چکے ہیں اور انھیں سچن تندولکر کا چھ سنچریوں کا ریکارڈ برابر کرنے کے لیے ایک تہرے ہندسوں کی اننگز درکار ہے۔

اسی ورلڈ کپ کے دوران سنگاکارا نے ایک روزہ کرکٹ میں 14 ہزار رنز بھی مکمل کیے ہیں اور وہ اس فہرست میں بھی تندولکر کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔

اسی بارے میں