جب تک دم ہے ریٹائر نہیں ہوں گا: یونس خان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’یہ سوچ کر کرکٹ کھیلتا ہوں کہ ٹیم میں اسی کو شامل ہونا چاہیے جو اچھا کھیلے‘

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سینیئر بیٹسمین یونس خان کا کہنا ہے کہ ان کا ورلڈ کپ کے بعد کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔

ایڈیلیڈ میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ جب وہ سمجھیں گے کہ ان کا جسم ان کا ساتھ نہیں دے رہا تو وہ خود ہی ریٹائر ہو جائیں گے۔

یونس خان کو بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ورلڈ کپ کے ابتدائی دو میچوں میں خراب کارکردگی کے بعد ڈراپ کر دیا گیا تھا۔

’ماضی میں کپتانی چھوڑ کر بہت غلطی کی‘

کیا آپ اپنے آپ کو اب فارم میں سمجھتے ہیں اور ایک سینیئر بیٹسمین کو ورلڈ کپ جیسے ایونٹ میں ڈراپ ہونے پر تکلیف تو ہوتی ہوگی؟

اس سوال کے جواب میں یونس خان کا کہنا تھا کہ وہ یہ سمجھ کر کرکٹ کھیلتے ہیں کہ ٹیم میں اسی کو شامل ہونا چاہیے جو اچھا کھیلے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ڈراپ ہونے پر تکلیف ہونا خود میرے لیے ہی نقصان دہ ہے، میری سوچ یہ ہے کہ پاکستان ٹیم جیتے، چاہے میں کھیلوں یا نہ کھیلوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کا اگلا میچ اتوار کو آئرلینڈ کے خلاف ہے

پاکستانی بیٹنگ اب تک ورلڈ کپ میں کیوں اچھا پرفارم نہیں کر سکی؟ انضمام نے 92 کے ورلڈ کپ میں اپنی عمدہ بیٹنگ کے ذریعے پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ کیا آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ موجودہ ٹیم میں انضمام جیسا کوئی بیٹسمین نہیں نظر آ رہا؟

یونس خان کا کہنا تھا کہ وہ یہ بتانے سے تو قاصر ہیں کہ بیٹسمین کیوں پرفارم نہیں کر سکے لیکن وہ دیکھ رہے ہیں کہ ٹیم محنت کر رہی ہے اور آگے جا کر پرفارم کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم ہر میچ کو آخری سمجھ کر کھیل رہی ہے اور ان کی بھرپور کوشش ہے کہ اتوار کو آئرلینڈ کوشکست دے کر کوارٹر فائنل کھیلیں اور پھر سیمی فائنل اور فائنل میں پہنچ کر ورلڈ کپ جیتیں.

جہاں تک انضمام جیسے بلے بازوں کا سوال ہے تو ’ٹیم میں بلکل ایسے بیٹسمین موجود ہیں جو کہ میچ والے دن اچھا کھیل کر ٹیم کو جیتا سکتے ہیں، احمد شہزاد کی شکل میں، عمر اکمل اور حارث سہیل کی شکل میں، اور دیکھیے کچھ میچوں میں تو انضمام بھی پرفارم نہیں کر پائے تھے۔‘

اسی بارے میں