پاکستان کواٹرفائنل میں، اگلی پنجہ آزمائی آسٹریلیا سے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وکٹ کیپر سرفراز احمد نے ٹورنامنٹ میں پاکستان کی جانب سے پہلی سنچری سکور کی

آٹھ سال پرانے زخم تازہ ہونے کی نوبت نہیں آئی اور پاکستانی کرکٹ ٹیم آئرلینڈ کو ایڈیلیڈ اوول میں شکست دے کر عالمی کپ کا پہلا مرحلہ پار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔جمعہ کے روز اسی میدان میں اس کا کوارٹرفائنل آسٹریلیا سے ہوگا۔

اس عالمی کپ میں پہلی بار پاکستانی ٹیم دوسری بیٹنگ کرکے میچ جیتی ہے۔

پاکستانی پیس بیٹری نے آئرلینڈ کی بیٹنگ کو 237 رنز پر محدود کردیا۔ اس محنت کو بیٹسمینوں نے ضائع نہیں ہونے دیا اور اس ورلڈ کپ میں پاکستان کی سب سے بہترین ایک سو بیس رنز کی اوپننگ شراکت نے سات وکٹوں کی جیت کی مضبوط بنیاد فراہم کردی۔

سرفراز احمد نے ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی پہلی سنچری بنانے کے ساتھ ساتھ ورلڈ کپ میں تین ہندسوں کی اننگز نہ کھیلنے کے جمود کو بالآخر توڑدیا۔ دو ہزار سات کے عالمی کپ میں عمران نذیر نے زمبابوے کے خلاف ایک سو ساٹھ رنز بنائے تھے جس کے بعد سے اب تک کوئی بھی پاکستانی بیٹسمین ورلڈ کپ میں سنچری نہیں بناسکا تھا۔

ویسٹ انڈیز کی متحدہ عرب امارات کے خلاف جیت کے بعد یہ طے ہوچکا تھا کہ پاکستان اور آئرلینڈ میں سے کوئی ایک ٹیم ہی کوارٹرفائنل میں جائے گی۔

آئرلینڈ کی خوش قسمتی کہ اس نے ٹاس جیت کر پاکستان کے لیے بیٹنگ کا انتخاب کیا جو اس کی ایک بڑی کمزوری ہے لیکن خود آئرلینڈ کی بیٹنگ ٹاس جیتنے کا بھرپور فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔

چند کیچز کے گرنے کے باوجود پاکستانی ٹیم نے آئرش بیٹنگ کو سراٹھانے نہیں دیا۔اگر کپتان ولیم پوٹر فیلڈ کی سنچری کو نکال دیں تو آئرلینڈ کی اننگز بغیر نمک مرچ کے کھانے کی مانند تھی۔

ولیم پوٹرفیلڈ عالمی کپ کی تاریخ میں سنچری بنانے والے پہلے ایسوسی ایٹ کپتان بن گئے۔ ننانوے کے سکور پر راحت علی نے اپنی ہی گیند پر کیچ ڈراپ کرکے انھیں ون ڈے انٹرنیشنل کی ساتویں سنچری مکمل کرنے کا موقع فراہم کردیا۔ایڈ جوئز راحت علی کی گیند پر احمد شہزاد کے ہاتھوں کیچ ہونے سے بچے۔

وہاب ریاض نے بھی اپنی ہی بولنگ پر مونی کا کیچ ڈراپ کیا جبکہ احسان عادل سہیل خان کی گیند پر کیون او برائن کا کیچ لینے میں ناکام رہے۔ ان چار ڈراپ کیچز کے برعکس عمراکمل نے کوئی بھی کیچ اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور چار کیچز لے کر وہ ون ڈے میچ میں چار کیچز لینے والے چوتھے پاکستانی فیلڈر بن گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وہاب ریاض نے تین وکٹیں حاصل کرکے اس عالمی کپ میں اپنی وکٹوں کی تعداد چودہ تک پہنچادی

پاکستانی بولنگ کے سرچڑھتے طوفان کے سامنے آئرلینڈ کی ٹیم آخری دس اوورز میں صرف49 رنز بناسکی اور اس کوشش میں اس کی پانچ وکٹیں گریں۔

وہاب ریاض نے تین وکٹیں حاصل کرکے اس عالمی کپ میں اپنی وکٹوں کی تعداد چودہ تک پہنچادی۔

پاکستانی ٹیم نے دو سو اڑتیس رنز کا تعاقب شروع کیا تو پاکستانی بیٹنگ کی روایتی پسپائی کی وجہ سے شکوک وشبہات بھی ذہنوں میں موجود تھے لیکن احمد شہزاد اور سرفراز احمد نے سنچری شراکت سے ان شکوک وشبہات کو دور کردیا۔

احمد شہزاد جس اعتماد سے کھیل رہے تھے لگ رہا تھا وہ بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن تریسٹھ رنز پر وہ غلطی کر بیٹھے۔ متحدہ عرب امارات کے خلاف وہ ترانوے رنز پر آؤٹ ہوئے تھے۔

حارث سہیل تین رنز بناکر رن آؤٹ ہوئے۔کپتان مصباح الحق انتالیس رنز بناکر ہٹ وکٹ ہوئے تو پاکستانی ٹیم جیت سے تیس رنز دور تھی۔ سرفراز احمد اور عمراکمل نے سنتالیسویں اوور میں ٹیم کو جیت سے ہمکنار کردیا۔سرفراز احمد چھ چوکوں کی مدد سے ایک سو ایک اور عمراکمل بیس رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

پاکستانی ٹیم اس میچ میں دو تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری۔ عرفان کے ان فٹ ہونے کے سبب احسان عادل کو ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ کھیلنے کا موقع مل گیا۔ حارث سہیل کی ایڑی کی تکلیف ٹھیک ہوئی تو ان کی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے یونس خان کو باہر بٹھانا پڑگیا۔