بنگلہ دیش بھارت نے بنایا، سوشل میڈیا پر تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption ٹوئٹر اور فیس بک وغیرہ پر بھارتی اور بنگلہ دیشی کرکٹ شائقین ایک دوسرے کے خوب لتّے لے رہے ہیں

کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں 19 مارچ کو کوارٹر فائنل مرحلے میں مدِمقابل آنے والی ہیں۔

کرکٹ کی پِچ پر پہنچنے سے پہلے ہی دونوں اطراف کے شائقین سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہو چکے ہیں۔

اس میچ سے پہلے دونوں ملکوں کے شائقین کے درمیان سوشل میڈیا پر ہونے والی نوک جھونک نے اس اشتہار کے بعد جنگ کی سی کیفیت اختیار کر لی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بنگلہ دیش بھارت نے بنایا تھا۔

اس اشتہار میں دکھایا گیا ہے کہ ایک بھارتی آدمی بنگلہ دیشیوں کو طنزاً کہہ رہا ہے کہ بنگلہ دیش بھارت نے 1971 میں بنایا تھا۔

اشتہار میں مشروبات بنانے والی ایک عالمی کمپنی کا نام استعمال کرنے پر اس اشتہار کو سوشل میڈیا سے ہٹا تو لیا گیا تاہم بنگلہ دیشی کرکٹ شائقین نے اس کے جواب میں بھارت کے خلاف کئی طنزیہ وڈیو اشتہار بنا ڈالے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹوں ٹوئٹر اور فیس بک وغیرہ پر دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین انگریزی ہیش ٹیگ ’موقع موقع‘ کا استعمال کر کے ایک دوسرے کے خوب لتّے لے رہے ہیں۔

اس سے قبل آپ نے بھارت اور پاکستان کے مابین میچ کے بارے میں آئی سی سی کا اشتہار تو دیکھا ہی ہو گا جس میں ایک پاکستانی خاندان پاکستان کی جیت کی آس لیے سال ہا سال گزار دیتا ہے۔

اس طنزیہ اشتہار نے بھی سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا تھا اور اس کے ردِّ عمل میں پاکستانی شائقین نے بھی کئی مضحکہ خیز وڈیو اشتہارات بنا کر یو ٹیوب پر شائع کیے تھے۔

تاہم بنگلہ دیش اور بھارت کے متعلق جس اشتہار کا تذکرہ یہاں ہورہا ہے وہ یو ٹیوب پر کسی کے ذاتی اکائونٹ کی کاوش تھی۔

کرکٹ کے کھیل کے گِرد اس بڑھتے ہوئے طنزیہ رجحان میں مغربی بنگال کے ایک بڑے فلمی اداکار نے بھی اپنا حصہ ڈال دیا اور اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ ’ٹائیگر کئی اقسام کے ہوتے ہیں۔ بہتر ہو گا اگر ِبلیّوں کو ٹائیگر نہ سمجھا جائے۔‘

موصوف نے کڑی تنقید کے بعد معافی مانگ کر اس جملے کو حذف کر دیا۔

اسی بارے میں